Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی اور شکل میں ہو۔ محنت کو اس کی پوری اجرت ملنی چاہئے اور اس کے پورے حقوق اس کے قبضہ میں ہونے چاہئیں۔‘‘ اس بات کو ایک اور پہلو سے دیکھئے ۔ مارکس نے انسانی سماج کے ارتقاء کا جو نظریہ پیش کیا ہے ۔ اس کے مطابق ، وہ موجودہ حالت میں مستقبل تک اس کے تین دور قرار دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ سماج ، سوشلسٹ سماج، اور کمیونسٹ سماج۔ سرمایہ دارانہ سماج وہ ہے جو اس وقت موجود ہے اور جو مارکس کے نزدیک بدترین سماج ہے۔ کمیونسٹ سماج اس کا وہ آئیڈیل ہے جہاں وہ انسانیت کو لے جانا چاہتا ہے اور سوشلسٹ سماج سرمایہ داری سے کمیونزم کی طرف سفر ارتقاء کا عبوری دور ہے۔ مارکس کے نزدیک یہ تینوں قسم کے سماج معاشی اسباب کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آدمی کو زندہ رہنے کے لیے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ چیزیں کوئی ایک شخص تیار نہیں کر سکتا۔ اس لیے بہت سے لوگ مل کر انھیں بناتے ہیں۔ کوئی شخص ایک کام کرتا ہے کوئی دوسرا ، اور کوئی تیسرا، اور پھر اپنی پیداوار کا ایک حصہ دوسروں کو دے کر ان سے وہ چیزیں حاصل کر لیتے ہیں جو وہ خود نہیں بنا سکتے۔ اسی باہمی لین دین سے وہ اجتماعی زندگی پیدا ہوتی ہے جس کو ہم سماج کہتے ہیں۔ مارکسی نقطۂ نظر کے مطابق ، سماج اس کے سوا کسی چیز کا نام نہیں کہ وہ باہمی لین دین کی اجتماعی صورت ہے۔ مارکسی نقطۂ نظر کے مطابق ، کسی سماج کے بارے میں یہ معلوم کرنے کے لیے کہ وہ ترقی کے کس مرتبہ پر ہے، یہ دیکھنا چاہئے کہ وہاں لین دین کس طرح ہوتا ہے۔ یہ لین دین یا تو چیزوں کی قدر تبادلہ (Exchang Value) کے مطابق ہوگا یا قدر اصل (Intrinsic Value) کے مطابق یا قدر استعمال (Use Value) کے مطابق۔ قدر استعمال کسی چیز کی اس خصوصیت کو کہتے ہیں کہ وہ انسان کی ایک ضرورت پوری کرتی ہے۔ قدر اصل اس کی وہ واقعی قیمت ہے جو انسانی محنت کی بنا پر اس کے اندر پیدا ہوتی ہے اور قدر تبادلہ اس کی وہ قیمت ہے جو رسد اور طلب کی کشمکش سے متعین ہوتی ہے اور کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ جس سماج میں اجناس کا تبادلہ استعمال کے نقطۂ نظر سے ہو، وہ سماج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page