Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

کمیونسٹ سماج کہلائے گا۔ جس سماج میں اجناس کا تبادلہ قدر اصل کے نقطۂ نظر سے ہو وہ سماج سوشلسٹ سماج کہا جائے گا اور جہاں اجناس کا لین دین قدر تبادلہ کے نقطۂ نظر سے ہو، وہ سماج سرمایہ دار سماج کہا جائے گا، جیسا کہ ہمارا موجودہ سماج ہے۔ سماج کی ان تینوں قسموں کی تشریح دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ جس سماج میں چیزوں کا لین دین نفع کی غرض سے ہو، وہ سرمایہ دارانہ سماج ہے۔ جس میں کوئی کسی سے نفع کا طالب نہ ہو، اور ہر شخص کو اس کی محنت کے بقدراپورا معاوضہ مل جائے وہ سوشلسٹ سماج ہے اور جہاں آدمی ان دونوں قیدوں سے بے نیاز ہو جائے ، جہاں نہ تو ایسا ہو کہ آدمی ایک دوسرے سے نفع حاصل کرنا چاہئے ، نہ یہی ضروری ہو کہ کام کیے بغیر آدمی کو کچھ نہیں مل سکتا بلکہ ہر شخص کو کسی رکاوٹ کے بغیر اس کی ضروریات حسب خواہش اسی طرح مل جائیں جیسے آب و ہوا اور پانی مل رہے ہیں، وہ کمیونسٹ سماج ہے۔ جو مارکس کے عقیدے کے مطابق ، انسانی سماج کے ارتقاء کی بلند ترین منزل ہے۔ یہ ایسا سماجی نظام ہے جس میں اجناس کی صرف قدر استعمال دیکھی جائے گی اور اسی نقطۂ نظر سے افراد مختلف جنسوں کا تبادلہ کریں گے۔ یعنی آپس میں تبادلہ کرتے وقت یہ نہ دیکھا جائے گا کہ کس نے کتنی محنت خرچ کی ہے اور اس کا اسے کتنا معاوضہ ملنا چاہئے ۔ تمام تبادلے صرف ضرورت کے پیش نظر ہوں گے نہ کہ نفع طلبی یا معاوضہ خدمت کے طور پر۔ ’’اگر کسی سماج میں جنس کی قدر استعمال ہی دیکھی جانے لگے تو وہاں جنس کی قدر اصل اور نسبت تبادلہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔ اس سماج میں انسان دو بچوں کی طرح تبادلہ کریں گے جن میں سے ایک کے پاس نارنگی ہے اور دوسرے کے پاس گڈ ولنا ہے ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی چیز لینا چاہتے ہیں تو یہ آپس میں تبادلہ کر لیں گے۔ یہاں دونوں بچوں کے سامنے نارنگی اور گڈ ولنے کی قدر استعمال ہے۔ اگر بچوں کا نقطہ نظر قدر اصل اور نسبت تبادلہ ہوتا تو جس بچے کے پاس گڈ ولنا تھا وہ یہ مطالبہ کرتا کہ چار درج جن نارنگیاں لا ؤ تب گڈ ولنا دوں گا۔ جس سماج میں جنس کو قدر استعمال ہی کے زاویہ نگاہ سے دیکھا جانے لگے ے گڈ ولنا بچوں کی گاڑی کو کہتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page