فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے وہ تمام تر ان لوگوں کی محنت کا نتیجہ ہے جو اس کو تیار کرتے ہیں، یعنی مزدور ۔ اس لیے پیداوار کا سارا منافع مزدوروں کو ملنا چاہئے ۔ اس کا کہنا ہے کہ کسی چیز کی تیاری میں جو ہاتھ کام کرتے ہیں وہی اس میں قیمت پیدا کرتے ہیں ۔ اس لیے وہی لوگ اس کے پورے فائدے کے مستحق ہیں۔ منافع کی ایسی تقسیم جس میں ایسے لوگوں کو بھی شریک کیا جائے جو اس کی تیاری میں براہ راست حصہ نہیں لیتے اور دور بیٹھ کر محض اس کی رہنمائی کرتے ہیں گویا ایک طرح کی لوٹ ہے جس کو قانون نے جائز کر دیا ہے۔ کارخانہ کا مالک جو محض سرمایہ اور انتظام کی وجہ سے اس کے منافع میں حصہ دار بن جاتا ہے، وہ حصہ دار نہیں بلکہ ایک ڈاکو ہے جو مزدوروں کی محنت کی کمائی غصب کر رہا ہے ۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق، سوشلسٹ سماج کے معنی یہ ہوئے کہ وہاں زمین اور کارخانہ کی تمام پیداوار صرف ان لوگوں کی ملکیت ہونی چاہئے جو‘‘ محنت‘‘ کر کے اسے پیدا کرتے ہیں ۔ اس کا سارا منافع انہی کو دینا چاہئے اور اس میں کسی دوسرے کا حصہ نہیں ہونا چاہئے ۔ مگر کیا ایسا ممکن ہے اور کیا کسی اشتراکی ملک میں اس پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ کھلی ہوئی بات ہے کہ کوئی کارخانہ محض مزدوروں کے ذریعہ نہیں چلایا جا سکتا بلکہ اس کے لیے منتظمین کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ملکیتی نظام میں یہ خدمت نجی مالک یا اشتراکی اصطلاح میں سرمایہ دار طبقہ انجام دیتا ہے اور اشتراکی نظام میں یہ خدمت براہ راست حکومت انجام دے گی ۔ پھر حکومت کے اخراجات اور انتظامی عہدیداروں کی تنخواہ کہاں سے دی جائے گی ۔ اگر کارخانہ کی آمدنی سے اسے حاصل کیا جائے تو کیا اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہی سابق لوٹ نئی شکل میں واپس آگئی ہے ۔ سرمایہ دار مزدوروں کی اجرت میں کمی کر کے ایک رقم بچا لیتا تھا اور منافع کے نام سے اس پر قبضہ کر لیتا تھا ۔ آپ بھی اسی طرح کارخانہ کی آمدنی سے ایک رقم بچا کر حکومت کی طرف منتقل کر دیتے ہیں تاکہ اس کے اخراجات پورے ہو سکیں ۔ پھر دونوں میں فرق کیا ہوا ۔ کیا یہ ایک لوٹ کو مٹا کر دوسری لوٹ کو قائم کرنا نہیں ہے ۔ کیا اس لوٹ کو باقی رکھتے ہوئے خوش حالی کا وجود ممکن ہے ۔ اشتراکی ملکوں میں یہ نئی قسم کی لوٹ پورے زور شور کے ساتھ جاری ہے ۔ میں ڈریزنسک کارخانہ کی مثال دیتا ہوں جو سوویت یونین کی کپڑے کی صنعت کے مرکزی شہر اوانووو (Ivanovo)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader