Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

میں واقع ہے اور ملک میں سوت کاٹنے کا سب سے بڑا کارخانہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کارخانہ میں ۱۹۵۶ کے اعداد و شمار کے مطابق، مزدوروں کی اجرت اور دیگر اخراجات ادا کرنے کے بعد منافع کے طور پر جو رقم حاصل کی گئی ہے وہ چار کروڑ روبل ہے۔ اس میں سے کچھ رقم ڈائریکٹر فنڈ وغیرہ میں دی گئی اور تین کروڑ ساٹھ لاکھ روبل حکومت کے خزانہ میں منتقل کر دئے گئے، یعنی منافع کا ۹۰ فیصدی۔ یہ ٹھیک وہی سرمایہ دارانہ نظام کا ’’قدر زائد‘‘ نہیں ہے جو اشتراکی ملک میں نئے قسم کے سرمایہ دار وصول کر رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے لیے اشتراکی حضرات کا فتویٰ ہے کہ ’’مزدور کی جو مزدوری غصب کی جاتی ہے وہی نفع کہلاتی ہے۔‘‘ پھر نام نہاد اشتراکی نظام میں مزدور کی پیدا وار سے جو منافع حاصل کیا جاتا ہے وہ بھی آخر مزدوروں کی غصب کی ہوئی اُجرت کیوں نہیں ہے؟ سوویت روس کے مرکزی بجٹ کی آمدنی کا پچاسی فیصدی حصہ ریاستی کارخانوں اور معاشی تنظیموں سے آتا ہے۔ ۱۹۷۵ کے بجٹ میں منافع کی یہ رقم ایک کھرب، چھپن ارب توے کروڑ روبل بتائی گئی۔ میں حکومتوں کے لیے اس طرح کی آمدنی کو معاشی اعتبار سے عین درست سمجھتا ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بغیر کوئی نظام چلایا ہی نہیں جا سکتا۔ مگر ’’قدر زائد‘‘ کے نظریہ کے مطابق، تو یہ بالکل اسی لوٹ کی بدلی ہوئی شکل ہے جو تمام سرمایہ دار ملکوں میں جاری ہے۔ یہ مارکسی نظریہ کی رو سے ایک نظام استحصال کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا نظام استحصال قائم کر دینا نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر جب اشتراکی ملکوں میں بھی محنت کی لوٹ کا بعینہ وہی عمل جاری ہے جو سرمایہ دار ممالک میں ہے تو آخر یہ معاشی خوشحالی آئی کہاں سے؟ کیا کمیونسٹ حضرات اس کی کوئی نظریاتی تو جیہہ کر سکتے ہیں۔ اوپر جو حقیقت میں نے درج کی ہے اس کو سامنے رکھے تو معلوم ہوگا کہ اشتراکیت معاشی اعتبار سے مغربی سرمایہ دارانہ نظام کی کاربن کاپی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ صرف عنوان بدل دیا گیا ہے۔ ساری مار دھاڑ کے بعد بھی وہ اس پیداواری نظام سے ایک انچ آگے نہیں بڑھے ہیں جو سرمایہ دار ملکوں میں پہلے سے جاری ہے؟ ؂سویت لینڈ، ۱۵ جنوری ۱۹۷۵ء

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page