فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ کہا جا سکتا ہے کہ روس میں کارخانوں وغیرہ سے جو منافع حاصل کیا جاتا ہے وہ کسی سرمایہ دار کی جیب میں نہیں جاتا بلکہ وہ حکومت کو ملتا ہے اور وہاں سے باقاعدہ منصوبہ کے تحت مختلف اجتماعی مقاصد میں صرف کیا جاتا ہے۔ چنانچہ سرکاری ذرائع سے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں اس کے مطابق، سوویت روس میں کارخانوں سے حاصل شدہ منافع کی تقسیم کا اصول یہ ہے کہ پچاس فیصدی سرکاری خزانے میں داخل ہوتا ہے۔ ۱۰ / فیصدی مزدوروں اور کاریگروں کے آرام و فلاح کے لیے خرچ کیا جاتا ہے اور چالیس فیصدی کارخانوں کی ترقی و توسیع پر صرف ہوتا ہے۔ میرا جواب یہ ہے کہ ٹھیک یہی نوعیت خود سرمایہ دار ممالک میں بھی قائم ہے۔ ان ملکوں میں سرمایہ دار اپنے کارخانوں سے جو منافع حاصل کرتا ہے وہ سب کا سب خود ہڑپ نہیں کر لیتا بلکہ اس میں سے بہت بڑا حصہ بعض اوقات اس کا ۹۹ فیصدی حصہ _ ٹیکس کے طور پر حکومت کو دے دیتا ہے۔ کچھ رقم کارخانہ کی توسیع و ترقی میں لگاتا ہے اور اس کے بعد جو رقم بچتی ہے اس کو کچھ مزدوروں کے علاج، ان کے لیے کوارٹروں کی تعمیر، ان کے لیے روشنی، پانی، تعلیم اور تفریح، وغیرہ کے انتظام میں خرچ کرتا ہے۔ خود حکومت بھی وصول کردہ ٹیکس کا ایک حصہ مزدوروں کی فلاح و آرام کے لیے خرچ کرتی ہے اور آخر میں سرمایہ دار ایک رقم اپنے ذاتی اخراجات کے لیے لے لیتا ہے۔ جس طرح اشترا کی ممالک میں کارخانے سے غیر متعلق وزیروں اور عہدیداروں کو ان کے ذاتی اخراجات کے لیے کارخانہ کے منافع سے تنخواہ دی جاتی ہے۔ اسی طرح ملکیتی نظام میں سرمایہ دار اپنے ذاتی اخراجات کے لیے کارخانہ کے منافع میں سے ایک حصہ لیتا ہے۔ پھر دونوں نظاموں میں فرق کیا ہوا۔ جب حالات دونوں جگہ ایک ہیں تو نتائج آخر دو کس طرح ہو جائیں گے؟ مارکس نے ’’قدر زائد‘‘ کے ذریعہ افلاس اور امارت کے پیدا ہونے کی جو نظریاتی توجیہہ کی تھی، اگر اس کو صحیح تسلیم کیا جائے تو روس میں بھی ویسے ہی معاشی حالات ہونے چاہئیں جو دوسرے سرمایہ دار ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ کیوں کہ روس میں بھی اسی طرح محنت کش طبقہ سے ’’قدر زائد‘‘ وصول کیا جاتا ہے جس طرح سرمایہ دار ملکوں میں وصول کیا جاتا ہے۔ مارکس نے قدر زائد کے نظریہ سے یہ ثابت کیا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام میں افلاس کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ اگر اس نظریہ کو صحیح مانا جائے تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader