فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
روس میں نظریاتی طور پر خوشحالی کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اور اگر یہ حقیقت ہے کہ روس میں معاشی خوشحالی پائی جاتی ہے تو لازمی طور پر مارکس کے قدرِ زائد کے نظریہ کو غلط تسلیم کرنا پڑے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ ماننا پڑے گا کہ پیداوار اور تقسیم کے سرمایہ دارانہ طریقے کے تحت بھی خوشحال معاشی نظام وجود میں آتا ہے۔ یعنی اس نظام کے تحت جو غیر اشتراکی ملکوں میں قائم ہے۔ روس میں اب تک جو کچھ حاصل کیا جا چکا ہے وہ روسی دستور کی دفعہ ۱۲ میں اس طرح ظاہر کیا گیا ہے: ”سوویت یونین میں ہر شہری کے لیے جو کہ کام کر سکتا ہے، کام کرنا ایک ڈیوٹی ہے اور عزت کی چیز ہے۔ اس اصول کے مطابق کہ ”جو کام نہ کرے وہ کھانا بھی نہ کھائے۔“ سوویت یونین میں سوشلزم کا اصول رائج ہے۔ یعنی ”ہر شخص سے اس کی قابلیت کے مطابق، کام لیا جائے اور ہر ایک کو اس کے کام کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔ اس حاصل کو طریقِ حصول کی اس بحث کے ساتھ ملا کر دیکھیے جس کی تفصیل ہم نے اوپر بیان کی ہے اور پھر فیصلہ کیجیے کیا یہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام سے ذرہ برابر مختلف چیز ہے؟ ”سرمایہ دارانہ نظام میں آدمی اسی وقت کسی معاوضہ کا مستحق ہوتا ہے جب وہ کوئی کام کرے۔ کام نہ کرنے کی صورت میں اسے کچھ نہیں مل سکتا۔ ٹھیک یہی صورتِ حال مزدوروں کی جنت میں بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں آدمی اپنی استعداد کار کے مطابق معاوضہ کا مستحق ہوتا ہے۔ معمولی کارکن کو معمولی اجرت دی جاتی ہے اور اعلیٰ صلاحیت کے کارکن کو زیادہ اجرت اور آسانیاں حاصل ہوتی ہیں۔ ٹھیک یہی صورتِ حال مزدوروں کی جنت میں بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں کسی کارخانہ کی ساری آمدنی صرف اس کے کارکنوں کو نہیں دی جاتی، بلکہ منافع کے نام سے ایک کثیر رقم اس کے مالک اور منتظم وصول کرتے ہیں۔ ٹھیک یہی صورتِ حال مزدوروں کی جنت میں بھی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ منافع نجی مالک وصول کرتے ہیں اور اشتراکی نظام میں حکومت کے عہدے دار۔“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader