مارکسزم کیا ہے؟
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
جو شکل اختیار کرے گا اس کی پیشین گوئی کی۔ اس نظریہ کے مطابق ، اس نے کہا کہ سماجی تبدیلیوں کی تہہ میں جو اصول کام کر رہا ہے وہ جدلیات کا اصول ہے۔ یعنی انسانوں کے اندر طبقات کا پیدا ہونا اور مختلف طبقات کا باہم ٹکرانا۔ مارکسی نظریہ کے مطابق ”انسان نے اب تک جتنے معاشرے قائم کیے ہیں ان سب کی تاریخ طبقاتی نزاع کی تاریخ ہے۔ غلام اور آقا، امراء اور عوام، سرمایہ دار اور مزدور، مختصر یہ کہ ظالم اور مظلوم ہمیشہ سے ایک دوسرے کے خلاف باہم بر سر پیکار رہے ہیں“ے طبقات کا باہم ٹکراؤ یہی وہ سیڑھی ہے جس پر انسانی تاریخ سفر کرتی ہوئی ہم تک پہنچی ہے۔ مارکس کے متعلق یہ بات بالکل غلط طور پر مشہور ہوگئی ہے کہ وہ مساوات کا علمبردار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف نظام استحصال کو مٹانا چاہتا ہے۔ مارکس کے نزدیک انسانیت کی تمام پچھلی تاریخ لوٹ کھسوٹ کی تاریخ ہے جس میں ایک طبقہ دوسرے طبقہ کو لوٹتا رہا ہے، وہ اسی صورت حال کو ختم کرنا چاہتا ہے، اس کے نظریات جو۔ جدلیات مادیت، پرولتاریہ کی ڈکٹیٹر شپ اور قدر زائد کے نام سے مشہور ہیں۔ دراصل تاریخ، سیاست اور اقتصادی قوانین کی وہ تشریحات ہیں جن کے ذریعہ مارکس یہ ثابت کرتا ہے کہ ماضی میں کیوں استحصال جاری رہا ہے اور آئندہ اشتراکی سماج میں کیوں یہ استحصال نہیں ہوگا۔ انسانی تاریخ کا قانون کیا ہے۔ مارکس کے نزدیک یہ بالکل وہی ہے جو مادی دنیا کا ہے۔ جس طرح مادی دنیا کی تمام چیزیں ایک عالم گیر قانون میں جکڑی ہوئی ہیں، اور اسی کے مطابق ان کے تمام خواص اور افعال ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسانی زندگی کا بھی ایک قانون ہے۔ انسان بظاہر شعور اور ارادہ رکھتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک خود مختار مخلوق ہے اور اپنی مرضی سے جو چاہے کر سکتا ہے۔ مگر انسان کے ارادہ کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ انسانی ذہن میں خارجی حالات کا عکس ہے۔ ایک تاریخی قانون ہے جو انسانی زندگی کی تمام سرگرمیوں کا حقیقی سبب ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اگر ہم تاریخ میں یہ دیکھتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان لوٹ کھسوٹ جاری رہی ہے تو اسی میں اس کمونسٹ مینی فیسٹو کا پہلا فقرہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader