مارکسزم کیا ہے؟
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
بات کا جواب بھی موجود ہے کہ لوٹ کھسوٹ کو کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ جو قانون انسانی زندگی کو برہم کئے ہوئے ہے، اس کو معلوم کر کے اسے ٹھیک طریقہ سے استعمال کرنا۔ جس طرح طوفان کی تباہی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ طوفان کے اندر ایک طاقت ہے اور اس طاقت کو اگر قابو میں لا کر اسے مفید اغراض کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی طوفان جو آج تباہی کا سبب ہے یہی انسانیت کو بہت سے فائدے پہنچا سکتا ہے۔ اسی طرح انسانی زندگی میں اس کے قانون کی ہولنا کیاں دیکھ کر ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر اس قانون کو موڑ کر اسے صحیح رخ پر چلا دیا جائے تو وہ زندگی کے لیے بے شمار فائدوں کا سبب بن جائے گا۔ سیاسی قانون یہ ہے کہ قدیم زمانے سے وہ طبقہ حکومت پر قابض رہا ہے جو سماج میں زیادہ طاقت ور تھا۔ جو وسائل و ذرائع کا مالک تھا، اس طبقہ کی حکومت کے معنی یہ تھے کہ جو لوگ سماج کے اندر زیادہ حقوق اور زیادہ ساز و سامان رکھتے ہیں، ان کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے حقوق اور فوائد کا تحفظ کر سکیں اور سیاسی طاقت کے ذریعہ اپنا بچاؤ کرتے رہیں۔ قدیم تاریخ میں یہی چیز سارے مظالم کا سبب بنتی رہی ہے۔ اس چیز نے سیاست کو حقوق یافتہ طبقہ کا خادم بنا دیا اور اس کا کام صرف یہ ہو گیا کہ وہ دبے ہوئے طبقہ کو دبائے تا کہ جو لوگ اسے لوٹ رہے ہیں وہ اپنے لوٹنے کا کام پورے اطمینان کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔ اس لیے حکومت اب محروم طبقہ کو دینی چاہئے۔ یعنی ان لوگوں کو جن کے پاس ذاتی طور پر ایسی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے جس کے تحفظ کے لیے وہ سیاسی طاقت کو ناجائز طور پر استعمال کریں جب ایسے لوگوں کو حکومت دی جائے گی تو وہ آخر کس چیز کا بچاؤ کریں گے اور کس چیز کے تحفظ کے لیے دوسروں پر ظلم کریں گے۔ یہ طبقہ مارکس کے نزدیک مزدوروں کا طبقہ ہے۔ جدید صنعتی نظام نے مزدور طبقہ کو ملکیت سے محروم کر کے ایک عظیم تاریخی کام انجام دیا ہے۔ اس طرح ایک ایسا طبقہ وجود میں آ گیا ہے جو سیاست کی باگ ڈور سنبھال سکے اور جس کے ہاتھ میں اختیارات دے کر کسی ظلم کا اندیشہ نہ کیا جا سکتا ہو۔ مارکس جدید نظام کو الٹ کر اسی طبقہ کے ہاتھ میں سارے سیاسی اختیارات دے دینا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader