مارکسزم کیا ہے؟
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
چاہتا ہے جس کا نام اس نے پرولتاریہ کی ڈکٹیٹر شپ رکھا ہے۔ مارکس کے اقتصادی قانون کا عنوان قدر زائد ہے ۔ اپنے اس نظریہ کے ذریعہ مارکس اس لوٹ کھسوٹ کی معاشی تشریح کرتا ہے جو اس کے نزدیک ساری انسانی تاریخ میں جاری رہی ہے۔ اس نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان جو کچھ کماتا ہے یا اپنے لیے جو کچھ حاصل کرتا ہے وہ محض انسانی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص محنت کر کے کوئی چیز وجود میں لاتا ہے اس کو حق ہے کہ وہ اس کا مالک بنے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ جو لوگ خود محنت کر کے کچھ حاصل کر رہے ہیں وہ تو گویا اپنی محنت کی جائز کمائی لے رہے ہیں اور جو لوگ دوسروں کو مزدور رکھ کر ان سے کوئی کام کراتے ہوں اور پھر اس کام کے منافع سے دولت حاصل کرتے ہوں وہ گویا دوسروں کی محنت سے ناجائز فائدہ اٹھارے ہیں۔ جو کچھ دوسروں نے کمایا تھا اس پر اپنا قبضہ کر لیتے ہیں۔ مارکس کے نزدیک یہی وہ معاشی قانون ہے جس نے سماج میں غیر معمولی اونچ نیچ پیدا کی ہے اور اس کا سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب سے ذرائع پیداوار پر نجی ملکیت تسلیم کی گئی اور ایک شخص کو یہ حق دیا گیا کہ وہ دوسروں کو مزدور رکھ کر ان سے کام لے۔ اس طرح ایک آدمی بہت سارے آدمیوں کو کام پر لگا کر ان کی محنت کے حاصل پر قبضہ کر لیتا ہے اور سرمایہ دار بن جاتا ہے۔ وہ مزدوروں کو ان کے کام کے معاوضہ میں تھوڑی سی مزدوری دیتا ہے اور ان کی کمائی کے بقیہ حصہ کو خود لے لیتا ہے۔ سادہ الفاظ میں کسی مزدور کے، حاصل محنت کی وہ مقدار جو مزدور کو نہیں دی گئی اور جس پر سرمایہ دار نے قبضہ کر لیا، اسی کا نام قدر زائد ہے جو مارکس کے معاشی قانون کا عنوان ہے۔ مارکس اس حالت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک کسی شخص کو یہ اجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ دوسروں کو اپنے یہاں مزدور رکھ کر ان سے کام لے۔ ہر شخص خود کام کرے اور اپنی محنت کے ذریعہ وہ جو کچھ حاصل کرتا ہے اس کا مالک بنے۔ اس طرح جب دوسروں کی محنت سے فائدہ اٹھانے کا موقع ختم ہو جائے گا تو وہ معاشی بنیاد باقی نہ رہے گی جو ایک طرف افلاس اور دوسری طرف سرمایہ داری پیدا کرتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader