Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی مارکس انیسویں صدی کی دوسری دہائی میں پیدا ہوا اور اس کے آخر میں اس کی وفات ہوئی۔ یہ زمانہ یورپ میں صنعتی انقلاب کے انتہائی عروج کا زمانہ تھا۔ بھاپ اور بجلی سے چلنے والی مشینوی کی ایجاد نے بے شمار لوگوں کو روزگار سے محروم کر کے صنعت و تجارت کا پورا میدان تھوڑے سے مل مالکوں اور کارخانہ داروں کے حوالہ کر دیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا چند لوگ سرمایہ دار اور باقی تمام لوگ ان کے خریدار بن کر رہ گئے ہیں۔ اس صورت حال نے یورپ کے ذہن کو شدید طور پر متاثر کیا۔ اس کے حل کے لیے مختلف تدبیریں سوچی جانے لگیں۔ بالآخر مارکس پیدا ہوا جس نے سرمایہ داری کے خلاف یورپی ذہن کے ردّ عمل کو ایک فلسفہ کی شکل میں مرتب کر ڈالا۔ یہ فلسفہ دراصل ڈاکو کے ایک نئی شکل تھی جس کا مطلب خود مارکس کے لفظوں میں یہ تھا کہ ”بے دخل کرنے والے طبقوں کو بے دخل کر دیا جائے“، مگر مارکس کی خود پسندی نے اس کو گوارہ نہ کیا کہ وہ دنیا کے سامنے ڈاکو کے روپ میں آئے، اس نے دوسرے لوٹنے والوں سے اپنی لوٹ کو ممتاز کرنے کے لیے اس کو باقاعدہ ایک فلسفہ کی شکل دے دی ۔ اس نے صرف یہی ثابت نہیں کیا کہ ایسا ہونا چاہیے ، بلکہ یہ بھی دعویٰ کیا کہ تاریخ کا تقاضہ ہے کہ ایسا ہی ہو۔ اس کے سوا کچھ اور ہونا ممکن نہیں ہے۔ برٹرنڈ رسل کے الفاظ میں ” وہ سوشلٹ انقلاب کا علم بردار نہیں، پیشگوئی کرنے والا ہے۔“ ۷ مارکس نے جب اپنے پیش رو فلسفیوں پر تنقید کر کے اپنا نظریہ پیش کیا تو اس زمانہ میں اس کو اس زور و شور کے ساتھ لیا گیا گویا کہ یہ آخری سچائی ہے جو انسان نے دریافت کر لی ہے۔ ہیگل پر تنقید کرتے ہوئے انگلس لکھتا ہے: ۷۔ کیپیٹل، جلد اول، صفحہ ۶۳۷، (ماسکو ۱۹۵۴)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page