Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکسزم کی نظریاتی ناکامی

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

”ہیگل کی بیشتر تفصیلات میں پیوند، بناوٹ اور آورد پائی جاتی ہے۔ ایک لفظ میں وہ سب کی سب غلط ہیں۔ ہیگل کا سسٹم بہت بڑی نارَسائی تھی مگر یہ اپنی قسم کی آخری نارسائی تھی۔ اس وقت یہ سمجھا جا رہا تھا کہ انسان نے آخری طور پر انسانیت کے راز کو پا لیا ہے اور اب صرف اتنی سی دیر ہے کہ اس کو زندگی میں عملاً جاری کر دیا جائے۔ اس وقت اشتراکی حضرات کو اس نظریہ کی سچائی پر اس قدر یقین تھا کہ اس کو نافذ کرنے کے لیے اگر چند کروڑ انسانوں کو قتل ہو جانا پڑے تو اس کو وہ بہت معمولی چیز سمجھتے تھے۔ کیوں کہ ان کے خیال میں دنیا کو مستقل کش مکش سے نکال کر ہمیشہ کے لیے آزاد کر دینے کی یہ بہت معمولی قیمت تھی۔ مگر تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ مارکسزم بھی اسی طرح ایک نظریہ ہے جس طرح دوسرے سابق فلسفیوں کے نظریات تھے۔ وقت نے مارکس کے نظریہ کی بہت سی خامیاں ظاہر کر دی ہیں۔ جن چیزوں پر پہلے صرف نظری بحث کی جاسکتی تھی، آج ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ مارکس نے اپنے زمانے کے حالات میں انسانی سماج کا جو تجزیہ کیا تھا وہ بعد کے حالات میں غلط نکلا۔ اس نے جو طریقِ کار معین کیا تھا وہ بے کار نظر آیا۔ اس نے جو حل پیش کیا تھا، تجربہ کے بعد وہ ظلم کی بد ترین شکل ثابت ہوا۔ اس طرح بعد کے حالات نے خود ہی ان تمام باتوں کی تردید کر دی جن کی بنیاد پر مارکس نے مستقبل کے فلسفہ کے اصول ۷ مرتیب کئے تھے۔ یہ گویا مارکسزم کے خلاف تاریخ کا فیصلہ تھا مگر مارکس کے متبعین نے اس فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا۔ ہر بار جب مارکسزم کی کوئی غلطی سامنے آئی تو انھوں نے لفظی الٹ پھیر کے ذریعہ فوراً اس کی تاویل پیش کر دی اور کہا کہ یہ ’’مارکسزم کے ذخیرہ میں نئی سچائیوں کا اضافہ‘‘ ہے۔ مگر یہ ’’نئی سچائیاں‘‘ دراصل مارکس کی غلطیوں کا اعتراف ہیں جو مزید غلطیوں کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ مارکسزم کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص دن کو رات ثابت کرنے کے لیے اپنا کمرہ بند کر کے کہے کہ دیکھو سورج کہیں نظر نہیں آتا۔ اور جب اس سے کہا جائے کہ یہ روشن دان سے جو کرنیں آرہی ہیں وہ کس چیز کا ثبوت ہیں تو وہ جواب دے کہ احمق معمار نے روشن دان کا رخ غلط بنا دیا۔ ورنہ تم دیکھتے کہ کمرہ میں بالکل اندھیرا ہے اور یہ ۷ سوشلزرم۔ یوٹوپین اینڈ سائنٹفک‘‘ بحوالہ کارل مارکس سلکٹڈ ورکس جلد اول صفحہ ۱۷۶ (ماسکو ۱۹۶۴ء)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page