مارکسزم کی نظریاتی ناکامی
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
بعد کے تجربات سے یہ دعویٰ غلط ثابت ہو گیا ۔ مارکس نے جن حالات کے پیش نظر انسانیت کے مسئلہ پر غور کیا تھا وہ حالات ہی بدل گئے ۔ سرمایہ داری نظام سامراجی نظام کے مرحلہ میں پہنچ گیا اور مل مالکوں کے خلاف مزدوروں کی ناقابلِ صلح کش مکش موافقت اور ہم آہنگی میں تبدیل ہو گئی ۔ اس طرح جب حالات بدل گئے تو خود مارکسی منطق کے مطابق ، وہ حل بھی بے معنی ہو گیا جو گزرے ہوئے حالات کے لیے اس کے اندر رہ کر سوچا گیا تھا۔ اس صورت حال نے مارکسیوں کی وہ تمام تنقیدیں جو انھوں نے ماضی کے فلسفوں کو غلط ثابت کرنے کے لیے ان پر کی تھیں خود مارکسزم پر چسپاں کر دیں ۔ مگر مارکسی حضرات یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ اشتراک کی پیغمبر کا حل کبھی بے کار بھی ہو سکتا ہے۔ اس قسم کے تمام تضادات کو رفع کرنے کے لیے انھوں نے برجستہ ایک نئی تاویل ایجاد کرلی، انھوں نے کہا: ” سوسائٹی کے ارتقاء کا سائنٹفک نقطۂ نظر ، دوسرے تمام سائنٹیفک علوم کی طرح تجربہ ، تاریخی حقائق اور اطراف کی دنیا پر مبنی ہے، جو ہم کو گھیرے ہوئے ہیں۔ اس لیے مارکسزم آخری طور پر تکمیل یافتہ نظریہ نہیں ہے ۔ جوں جوں تاریخ ترقی کرتی ہے، انسان زیادہ تجربات حاصل کرتے ہیں اس کے مطابق مارکسزم بھی ہمیشہ ترقی کرتی رہتی ہے اور نئے حقائق جو روشنی میں آتے ہیں، ان پر اس کا انطباق ہو تا رہتا ہے ۔“ اے دوسرے لفظوں میں جس طرح کیمیا اور طب وغیرہ سائنٹفک علوم ہیں ، ٹھیک اسی طرح انسانی سماج کی بھی ایک سائنس ہے ۔ کیمیا اور طبعیات طبعی سائنس ہیں ، حیوانات اور طب وغیرہ حیاتیاتی سائنس ہیں ۔ اسی طرح مارکسزم معاشرتی سائنس ہے۔ جس طرح دوسرے علوم میں انسان تجربہ اور مشاہدہ کے ذریعہ نئے نئے حقائق دریافت کرتا رہتا ہے اور اس کو ترقی دیتا ہے، اسی طرح سماج کے بارے میں مارکس کا فلسفہ بھی حالات اور تجربات کے ساتھ ترقی کرتا رہتا ہے ۔ یہ تو توجیہہ پیش کر کے مارکسی حضرات خوش ہیں کہ انھوں نے ہمیشہ کے لیے اپنی مشکل حل کر لی ۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر انسانیت کا علم بھی طبیعی علوم کی طرح ایک علم ہے جو ہمیشہ تجربات اور مشاہدات اے ایمیل برنس ، صفحہ ۱

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader