Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

سے بدلتا رہے گا تو پھر آپ طبقاتی جنگ اور ذاتی ملکیت کی تنسیخ کے حل کو جو انیسویں صدی میں سوچا گیا تھا، کس دلیل کی بنا پر اسے بیسویں صدی کی نسل پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو اقرار ہے کہ انسان کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جس کو ابھی آخری طور پر انسان سمجھ نہیں سکا ہے۔ پھر انسان اور انسان کو ٹکرانے اور لوگوں کو ان کی ملکیتوں سے محروم کرنے کا انتہائی اقدام آپ کس علم و یقین کی بنا پر کر رہے ہیں۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ جس چیز کو آپ حل کہہ رہے ہیں وہ آپ کی ایک غلطی ہو جو آپ نے نا تمام مطالعے اور غلط معلومات کی روشنی میں سوچ لیا ہو۔ پھر ماضی کی غلطی کو مستقبل تک وسیع کرنے کے لیے آپ کے پاس کیا دلیل ہے۔ جب آپ خود یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ انسانیت کا حقیقی علم اور اس کے ابدی قانون ابھی تک دریافت نہیں کیا جا سکا ہے۔ انسان اپنے تجربہ اور مطالعہ سے ہمیشہ اس کی طرف بڑھتا رہے گا۔ ایسی حالت میں آپ کے لیے یہ تو جائز ہے کہ لیبارٹریوں اور کتب خانوں میں آپ آخری علم تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھیں ۔ مگر آپ کو کیا حق ہے کہ دوران تحقیق میں جو تمام معلومات آپ کو حاصل ہو جائیں، آپ انسانی زندگی میں ان کا ہولناک تجربہ شروع کر دیں۔ کیا انسانی زندگی بھی کوئی مردہ لاش ہے جس کو میڈیکل کالج کے طالب علموں کے حوالے کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے تجربات کے لیے اس کی چیڑ پھاڑ کرتے رہیں۔ اشتراکی لٹریچر پورا کا پورا اسی قسم کے تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ مارکسی مفکرین اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے ایک دعوی کرتے ہیں اور بعد کو جب حقائق اس کے خلاف جاتے ہوئے نظر آتے ہیں تو پوری ڈھٹائی کے ساتھ فوراً ایک دوسرا دعویٰ کر دیتے ہیں جو پہلے دعوے کی عین ضد ہوتا ہے۔ میں یہاں بتاؤں گا کہ مارکسزم کی نظریاتی بنیاد کس قدر کمزور ہے اور کس طرح وہ اپنی تردید آپ کر رہی ہے۔ تاریخی مادیت کا فریب : اشتراکی لٹریچر میں جہاں ماضی اور حال کے سماج کا تجزیہ کیا گیا ہے، اس کو دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا انسان کتے سے زیادہ خود غرض اور بھیڑیئے سے زیادہ خونخوار ہے۔ اس کو تاجر اور صنعت کار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page