تاریخی مادیت کا فریب
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
بننے کا موقع ملتا ہے تو دوسروں کو لوٹنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کو اقتدار مل جاتا ہے تو اپنے جیسے انسانوں کو غلام بنا لیتا ہے۔ اس کو سرمایہ داروں اور وقت کے حکمرانوں کی طرف سے کچھ نفع کا لالچ دے دیا جائے تو محض اپنے ذاتی فائدے کے لیے وہ ہزاروں انسانوں کے ساتھ غداری کرنے سے بھی نہیں چوکتا۔ غرض قوت اور اسباب و ذرائع کا تھوڑا سا حصہ بھی کسی انسان کو بگاڑ دینے کے لیے کافی ہے۔ اس نظریے کے مطابق، ساری انسانی تاریخ لوٹ کھسوٹ کی تاریخ ہے۔ دنیا اس کی نگاہ میں کتوں کا دستر خوان ہے جہاں معاشی مفاد اور مادی خوش حالی کے لیے سارے انسان چھین جھپٹ کر رہے ہیں۔ بڑے بڑے مصلحین اور پیغمبر سے لے کر عوام تک کسی کے سامنے اس کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں۔ جس کو موقع مل گیا ہے وہ لوٹ رہا ہے اور جو ابھی محروم ہے وہ اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح وہ بھی لوٹنے والوں کی صف میں پہنچ جائے ۔ مارکس کے نزدیک انسان اگر مذہب و اخلاق کی بات کرتا ہے تو صرف اس لیے کہ اپنی مکاریوں پر پردہ ڈالے۔ وہ قانون بناتا ہے تو اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ اپنی لوٹ کھسوٹ کے لیے قانون کی حمایت حاصل کرے ۔ وہ فلسفہ کا درس دیتا ہے تو صرف اس لیے کہ اپنی ظالمانہ کارروائیوں کے لیے علمی دلیل فراہم کرے ۔ حتیٰ کہ وہ ازدواجی زندگی اختیار کرتا ہے تو اس سے بھی اس کی غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ ناجائز طریقے سے سمیٹی ہوئی دولت کے لیے اپنا ایک وارث چھوڑ جائے ۔ یہ سارے کام صرف سرمایا دار لوگ ہی نہیں کرتے جو اشتراک کی شریعت میں سب سے بڑے مجرم ہیں بلکہ خود غریب طبقہ کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ چنانچہ مزدوروں کو اگر اپنے کارخانہ دار سے کچھ نفع کی امید ہو جائے تو وہ بھی اپنے کو سرمایہ داروں کی لوٹ کھسوٹ سے وابستہ کرنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ انگلستان کے بارہ میں مارکس نے لکھا ہے۔ اسی طرح چھوٹے کسانوں کی انجمن امداد باہمی کے بارے میں مارکس نے لکھا ہے کہ وہ خوش حال کسانوں کے لیے تو بہت کچھ کرتی ہے مگر غریب کسانوں کی بہت بڑی تعداد کے لیے اس کا کرنا، نہ کرنا برابر ہے۔ یہ انجمنیں خود بھی اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کا استحصال کرنے لگتی ہیں ۔ مارکس، سلکٹیڈ ورکس، جلد اول، ۳۶۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader