تاریخی مادیت کا فریب
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
اشترا کی لٹریچر پچھلی تاریخ کے بارے میں اس طرح کے بیانات سے بھرا ہوا ہے۔ مارکسی لٹریچر کا دوسرا حصہ وہ ہے جس میں اس خیالی سماج کا نقشہ پیش کیا گیا ہے جو اشترا کیت اپنے دعوے کے مطابق مستقبل میں تعمیر کرنا چاہتی ہے یا دوسرے لفظوں میں جو مارکسی تشریح کے مطابق مستقبل میں آنے والا ہے۔ یہ سماج مارکس کے نزدیک وہ سماج ہے جہاں ملکیت کے قانون کو ختم کر دیا جائے گا اور سرمایہ حاصل کرنے کے تمام ذرائع کو ریاست کی تحویل میں دے دیا جائے گا۔ اشترا کیوں کے نظریہ کو ایک جملہ میں یوں ادا کر سکتے ہیں۔ ’’افراد کی ذاتی ملکیتوں کو ختم کر کے ان کو مزدور نمائندوں کے ہاتھ میں دینا اور اس طرح مزدوروں کی ڈکٹیٹر شپ قائم کرنا‘‘۔ اشترا کیت کا دعویٰ ہے کہ ملکیت کی تنسیخ کے بعد سارے جھگڑے ختم ہو جائیں گے اور انسانیت ہمیشہ کے لیے بدحالی اور جنگ سے نجات پا جائے گی۔ اس نظام میں آدمی اس حد تک بدل جائے گا کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں ابتداءً سیاسی اور اقتصادی معاملات کی ڈکٹیٹر شپ دی جائے گی، کچھ دنوں کے بعد وہ خود ہی اپنے تمام اختیارات سے دست بردار ہو جائیں گے۔ سماج کے تمام افراد اس قدر فرشتہ صفت ہو جائیں گے کہ عدالت اور پولیس کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ مارکس نے پچھلی انسانی تاریخ کا جو تجزیہ کیا ہے اس کے تحت اگر وہ یہ تجویز کرتا کہ روئے زمین سے ہمیشہ کے لیے نسل انسانی کا خاتمہ کر دیا جائے تو یہ بات خواہ کتنی ہی غلط ہو مگر ہم کہہ سکتے تھے کہ اپنے تجزیہ کے مطابق وہ جس نتیجہ پر پہنچ سکتا تھا اس کو سچائی کے ساتھ اس نے پیش کر دیا ہے۔ مگر جب وہ کہتا ہے کہ ذرائع پیدا وار کو عام لوگوں سے چھین کر حکومت کے قبضہ میں دے دیا جائے تو دراصل وہ اتنے بڑے تضاد کا مظاہرہ کرتا ہے جس کی امید ایک پاگل کے سوا کسی اور شخص سے نہیں کی جاسکتی۔ ایک طرف تو وہ کہتا ہے کہ کسی سماج میں زمین، کارخانے، مشینیں اور دوسرے ذرائع پیدا وار جن لوگوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، پورا سماج ان کا غلام بن جاتا ہے مگر انہی چیزوں کو جب وہ نجی سرمایہ داروں سے چھین کر’’مزدور ڈکٹیٹروں‘‘کے ہاتھ میں دے دیتا ہے تو اس کے نزدیک ساری برائی کا خاتمہ ہو جاتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader