Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

تاریخی مادیت کا فریب

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے اور انسانیت ہمیشہ کے لیے سیاسی، معاشی اور تمدنی غلامی سے نجات پا جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی تلوار ہے جونجی قبضے کے طور پر کسی کے پاس ہو تو وہ کاٹتی ہے لیکن اگر اس کو سماجی نمائندوں کے ہاتھ میں دے دیا جائے تو اس کی دھار کند ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن ذرائع کو پا کر مٹھی بھر سرمائے داروں کا یہ حال ہوا ہے انہی ذرائع کو جب مٹھی بھر ”کامریڈ“ اپنے ہاتھوں میں پائیں گے تو آخر ان کا حال اس سے مختلف کیوں ہوگا۔ مارکسی نظریہ کے مطابق، قدیم ترین انسانی سماج اشتراکی سماج تھا جو لوٹ کھسوٹ اور ظلم سے پاک تھا مگر انہی میں سے کچھ لوگوں کے پاس جب دوسرے سے زیادہ ذرائع و وسائل اکٹھا ہو گئے تو وہ ظالم اور لٹیرے بن گئے۔ پھر موجودہ زمانے کے سوشلسٹ سماج میں جن لوگوں کو اس سے بہت زیادہ ذرائع و وسائل کا چارج دیا جائے گا وہ آخر کیوں ظالم اور لٹیرے نہیں بنیں گے۔ یہ ایک عظیم تضاد ہے جس کو دور کرنے کے لیے مارکس اپنے ”تاریخ مادیت“ کے نظریہ سے مدد لیتا ہے۔ مارکس کا فلسفہ جو اس نے کائنات اور انسان کی تشریح کے لیے مرتب کیا ہے وہ محض کائنات اور انسان کی تشریح نہیں کرتا بلکہ اس سے بڑھ کر وہ اس حل کو صحیح ثابت کرتا ہے جو مارکس نے انسانی زندگی کے لیے پیش کیا ہے اور سماجی آپریشن کے متعلق ان کارروائیوں کی توجیہہ کرتا ہے جو مارکس نے تجویز کی ہیں۔ ہم یہاں مارکسی فلسفہ کا اسی نقطہ نظر سے مطالعہ کریں گے۔ ڈاروینی نظریہ کے مطابق، دنیا ایک زمانہ میں بے جان مادہ تھی۔ پھر جاندار مادہ پیدا ہوا، اور اس کے ارتقاء کے دوران میں نباتات اور حیوانات وجود میں آئے۔ آگے چل کر ان میں سوچنے کی صلاحیت پیدا ہوئی۔ حیوان کے ارتقاء کی آخری کڑی انسان ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ شعور سے پہلے مادہ موجود تھا۔ مادہ پہلے پیدا ہوا اور اس کے اندر شعور بعد میں آیا۔ دوسرے لفظوں میں مادہ کو پیدا نہیں کرتا بلکہ مادہ کے ارتقاء کے ایک خاص دور میں خود بخود اس کے اندر شعور آ جاتا ہے۔ مارکس نے اس مفروضہ کو انسانی سماج کے مطالعہ کے لیے استعمال کیا، اور اس کو بعینہ اس کے اوپر چسپاں کر دیا۔ مادہ کی جگہ اس نے معاشی حالات کو دی اور یہ دعویٰ کیا کہ ”انسان کے شعور سے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page