تاریخی مادیت کا فریب
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
کی ہستی وجود میں نہیں آتی بلکہ اس کی ہستی ہے جس سے اس کا شعور وجود میں آتا ہےے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص صحیح یا غلط جو رویہ اختیار کرتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ اس کی خواہش پہلے سے اس کے ذہن میں موجود تھی یا اس نے الگ سے سوچ کر یہ طے کیا تھا کہ ایسا کرنا ہے، بلکہ آدمی کے تمام خیالات اس کی معاشی زندگی کا عکس ہوتے ہیں۔ جس طرح آئینہ میں وہی عکس پڑے گا جو اس کے سامنے ہو۔ اسی طرح ذہن میں وہی خیالات پیدا ہوں گے جو معاشی حالات کے اندر پہلے سے موجود ہیں۔ کسی دور میں معاشی پیداوار کے جو طریقے رائج ہوتے ہیں، اسی کے مطابق انسان کے عادات و اخلاق بنتے ہیں اور وہی آدمی کے بھلے یا برے رویے کو متعین کرتے ہیں۔ کائنات کی تمام چیزیں اطراف کے حالات سے متاثر ہوتی ہیں۔ ہر چیز پر تپش، موسم، ہوا کے دباؤ اور دوسری بہت ساری چیزوں کا اثر پڑتا ہے۔ اسی طرح انسانی سوسائٹی خارج کے مادی ماحول سے متاثر ہوتی ہے اور اس کے مطابق کوئی شکل اختیار کرتی ہے۔ لینن نے اسی بات کو اپنے لفظوں میں اس طرح کہا ہے: ”بورژوا عالِموں کے نزدیک جو عمل محض ایک جنس کا دوسری جنس سے تبادلہ ہے، وہ مارکس کے نزدیک انسانوں کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔“ اس تصور کے مطابق، عمل پہلے ہوتا ہے اور اصول و نظریات اس کے بعد وجود میں آتے ہیں۔ عملی طریقے جن سے آدمی اپنی روزی حاصل کرتا ہے، وہی اس کے خیالات کے بنیاد بنتے ہیں۔ انہی پر سیاست اور تمدن کا پورا ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے۔ ہر زمانہ میں جو اصول و نظریات رائج ہوتے ہیں اور ادارے قائم ہوتے ہیں ان کی حیثیت اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی کہ وہ اس دور کی معاشی زندگی کا عکس ہوتے ہیں۔ اس طرح مارکس نے اس بات کی توجیہہ فراہم کی۔ کیوں کہ اب تک تمام پچھلے سماج۔ ابتدائی سماج کے بعد ظلم اور لوٹ کھسوٹ پر مبنی تھے، اور کیوں آنے والا سوشلست سماج انصاف اور باہمی ہمدردی پر مبنی ہوگا۔ اس نے بتایا کہ انسان ظالم اور لٹیرا اس لیے نہیں تھا کہ پہلے سے اس کے اندر اس کا ارادہ موجود تھا یا اس کے دماغ نے اس سے کہا تھا کہ تم ایسے ہی بنو، بلکہ اس کی ذمہ داری دراصل ان ے کریٹک آف پولیٹکل آف اکانومی کی تمہید۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader