Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

تاریخی مادیت کا فریب

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

معاشی حالات اور اس طریقِ پیداوار پر ہے جو اب تک دنیا میں رائج تھے۔ لوگوں کی ذہنیت اور ان کا اخلاق بدل سکتا ہے اگر ان کی مادی زندگی بدل جائے ، اس طریقہ کو بدلا جائے جس سے وہ روزی حاصل کرتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت ملکیتی نظام رائج ہے۔ یعنی دولت حاصل کرنے کے ذرائع افراد کے قبضہ میں ہیں۔ مثلاً کھیتی ہے تو اس کی شکل یہ ہے کہ ہر کھیت والا اپنے اپنے قطعہ پر الگ کھیتی کرتا ہے۔ یہ طریقِ پیداوار لازمی طور پر افلاس پیدا کرتا ہے اور باہمی نفرت اور خود غرضی سکھاتا ہے۔ اپنے اپنے کھیتوں پر الگ کھیتی چلانے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی کو صرف اپنے مفاد سے دل چسپی ہو، اس کو بدل کر اگر مشترکہ کاشت کا نظام رائج کر دیا جائے تو پیداوار کا محرک انفرادی نفع کے بجائے اجتماعی نفع بن جاتا ہے۔ بیج بونے اور ہل چلانے کا عمل صرف زمین سے غلّہ اگانے کا عمل نہیں ہے بلکہ وہ کسان کے ذہن کی تربیت بھی کرتا ہے۔ انفرادی طریقِ کاشت میں آدمی صرف اپنے لیے کام کرتا ہے۔ اس لئے یہ طریقہ آدمی کے اندر انفرادی ذہنیت پیدا کرتا ہے، اس کو بتاتا ہے کہ تم صرف اپنے لیے زندہ ہو۔ اس کے برعکس مشترکہ کاشت کا طریقہ ہو تو ایک کا مفاد دوسرے کے مفاد سے وابستہ ہو جائے گا۔ آدمی مل جل کر کام کریں گے۔ صرف اپنے لیے زندہ رہنے کے بجائے سب کے لیے زندہ رہیں گے۔ اس عمل سے اس کے اندر اجتماعی ذہنیت پیدا ہوگی۔ اس کے اندر یہ احساس ابھرے گا کہ اس کی زندگی پورے سماج کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہی حال ضروریاتِ زندگی سے متعلق دوسری چیزوں کا ہے۔ اگر لوگ چیزیں اس لیے بنائیں کہ ان سے اپنی ضروریات پوری کرنی ہیں تو اس سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس اگر چیزیں اس لیے بنائی جانے لگیں کہ ان کو دوسروں کے ہاتھ بیچ کر نفع کمانا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کو لوٹنا چاہتا ہے۔ ہر آدمی اس لیے عمل کر رہا ہے کہ وہ اس عمل کو دوسرے کی جیب خالی کرانے کا ذریعہ بنائے۔ پھر جب قانونِ ملکیت کے تحت کچھ لوگ زیادہ سرمایہ اکٹھا کر لیتے ہیں تو وہ بڑے بڑے کارخانے کھولتے ہیں جن میں ہزاروں آدمی کام کرتے ہیں۔ اس مرحلہ میں آکر ملکیتی نظام انتہائی شدت اختیار کر لیتا ہے۔ اس طرح انسانی محنت کے استحصال کا ایک عظیم سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس طریقِ پیدائش سے افلاس، باہمی نفرت، طبقاتی کش مکش اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page