Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

تاریخی مادیت کا فریب

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

بالآخر انسان اور انسان میں جنگ چھڑ جاتی ہے۔ اوبرائن (Obrien) نے کہا ہے: ”انسان کی یہ خواہش کہ وہ دوسرے کی محنت سے فائدہ اٹھائے انسانیت کا بنیادی گناہ ہے۔ سب گناہ اسی گناہ سے پیدا ہوتے ہیں۔“ اب اگر سوسائٹی کی مشترک ملکیت کے کارخانے قائم کئے جائیں تو اس میں کام کرتے ہوئے سب کے جذبات یکساں ہوں گے، نہ کوئی مالک ہوگا نہ کوئی مزدور۔ ہر شخص یہ سمجھے گا کہ وہ ایک بڑے خاندان کا ممبر ہے۔ منافع میں سب کو اپنی محنت کا پورا حصہ ملے گا اور باہمی نفرت اونچ نیچ پیدا ہونے کے امکانات ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔ اس بناء پر اشتریوں کا یہ دعویٰ ہے کہ انسان کی تمام اخلاقی برائیاں اس کے معاشی ماحول کی خرابیوں سے وجود میں آتی ہیں اور اگر نظام معیشت کو درست کر دیا جائے تو اس کے تحت رہنے والے انسان تمام اخلاقی بیماریوں سے پاک ہو جائیں گے۔ اسٹالن نے کہا ہے: ”معاشی ترقی مزدور طبقہ کو سماجی انقلاب کے قریب لے آئے گی اور نتیجہ کے طور پر مزدور طبقہ کو مجبور کرے گی کہ وہ سرمایہ دارانہ نظریات سے تمام رشتے منقطع کرلے۔“ یہی وہ نظریہ ہے جس کے ذریعہ سے مارکس اپنے ’’اجتماعی ملکیت‘‘ کے حل کو صحیح ثابت کرتا ہے اور اس بات کی توجیہہ کرتا ہے کہ کیوں پہلے لوٹ کھسوٹ تھی اور کیوں اشتراک کی سماج میں نہیں ہوگی۔ یہ نظریہ انسانی ارادہ کی بالکلیہ نفی کر دیتا ہے اور اس کو صرف معاشی حالات کی پیداوار قرار دیتا ہے۔ اس نظریہ کے معنی یہ ہیں کہ آدمی کی اپنی کوئی ہستی نہیں۔ جس طرح صابن کے کارخانے میں صابن ڈھلتا ہے، اسی طرح آدمی اپنے ماحول کے کارخانے میں ڈھلتا ہے۔ وہ سوچ کر کوئی کام نہیں کرتا بلکہ جو کچھ کرتا ہے اسی کے مطابق سوچنے لگتا ہے۔ مارکس نے اس اصول کو ایک مشکل حل کرنے کے لیے تو لے لیا مگر پھر فورا سوال پیدا ہوا کہ کیا فی الواقع انسانی فکر معاشی حالات سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو خود مارکس کے لیے کیسے ممکن ہوا کہ وہ اپنے وقت کے معاشی حالات کے خلاف سوچ سکے۔ کیا اس نے زمین کا مطالعہ چاند پر جا کر کیا تھا۔ مارکسی نظریہ کے مطابق، انسان اپنے مادی ماحول سے آزاد ہو کر سوچ نہیں سکتا۔ مگر اسی آن جب وہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے موجودہ نظام کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page