Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

تاریخی مادیت کا فریب

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

غلطی معلوم کرلی ہے اور میرے پاس ایک ایسا پروگرام ہے جس کے مطابق، اسے بدل کر دوسرا نظام تعمیر کیا جاسکتا ہے تو مارکس اپنے نظریہ کی آپ تردید کردیتا ہے۔ مارکس ایک طرف تو اپنے کو مصلح کے بجائے سائنسدان کی حیثیت سے پیش کرتا ہے، دوسری طرف یہ نعرہ بھی لگاتا ہے کہ ” دنیا کے مزدور و ! متّحد ہوجاؤ“۔ یہ الفاظ یقیناً پیشین گوئی نہیں ہیں بلکہ یہ لوگوں کو دعوتِ عمل ہے۔ اگر مارکس کے نزدیک اشتراکى انقلاب ناگزیر تھا تو اس نے انقلاب کے لانے کی تلقین کیوں کی۔ یہ مارکسی نظریہ کا پہلا کھلا ہوا تضاد ہے۔ کہنے کو تو ایک دعویٰ کر دیا گیا مگر پھر تاریخ میں اور روزمرّہ کی زندگی میں ایسے بے شمار واقعات نظر آئے جن کی توجیہہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کی جاسکتی تھی کہ اس کو انسانی ارادہ نے انجام دیا ہے جو ماحول سے الگ انسان کے ذہن میں پیدا ہوا تھا۔ مارکس نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ تمام اخلاقی تصورات اپنے وقت کے معاشی حالات کا عکس ہوتے ہیں، تمام چیزوں کو بالکل مادہ کے تابع قرار دے دیا۔ اسے ثابت کرنا تھا کہ طریق پیداوار کی ایک شکل آدمی کو ظالم اور ڈاکو بناتی ہے اور اسی کی دوسری شکل آدمی کو عادل اور دیانت دار بناسکتی ہے۔ مگر جب اس تنقید سے فارغ ہوکر مارکسی حضرات نے یہ چاہا کہ پرولتاریہ کو اس مقصد کے لیے منظم کریں کہ وہ سرمایہ دار طبقہ سے حکومت اور پیدائشی دولت کے ذرائع چھین لے تو انھیں فوراً محسوس ہوا کہ یہاں ان کے پچھلے نظریہ کی نفی ہورہی ہے۔ کیوں کہ اس نظریہ کی رو سے تو انسان محض وقت کے مادی ہاتھوں میں کھلونا ہے۔ وہ اس کے خلاف سوچ بھی نہیں سکتا کجا کہ اس کے مقابلے میں منظم ہو، اور اپنے ارادہ سے رائج الوقت حالات کے بجائے کچھ دوسرے حالات لانے کی کوشش کرے۔ حالانکہ وقت کے خلاف کوئی ذہن کسی ایسے معاشی حالات ہی میں پیدا ہوسکتا ہے جو وقت کے خلاف بنایا گیا ہو۔ مارکسی مفکرین نے اس مشکل کو حل کرنے کے لیے ایک نیا نظریہ گھڑ لیا۔ فریڈرش انگلس لکھتا ہے: ” تاریخ کے مادی تصور کی رو سے بنیادی طور پر تاریخ میں فیصلہ کن اہمیت سماجی زندگی کی عملی پیداوار کو ہے۔ اس سے زیادہ نہ تو مارکس نے کبھی کچھ کہا اور نہ میں نے۔ لیکن جب اس کو مسخ کر کے کوئی شخص یہ معنی نکالتا ہے کہ سماج میں معاشی عنصر ہی اکیلا ایک فیصلہ کن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page