تاریخی مادیت کا فریب
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
عنصر ہے تو وہ ہمارے اس بیان کو ایک بے معنی مبہم اور لغو جملہ کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اقتصادی حالات تو محض عمارت کی بنیاد ہیں مگر اس سماجی عمارت کے دوسرے حصے مثلاً طبقاتی جدوجہد کی سیاسی صورتیں اور اس کے نتیجے، فتح مند طبقے کی کامیاب جنگ کے بعد دستور حکومت کی صورتیں، حتیٰ کہ لڑنے والوں کے ذہن میں ان حقیقی لڑائیوں کے اثرات، سیاسی، قانونی، فلسفیانہ نظریے، مذہبی خیالات، وغیرہ یہ تمام چیزیں تاریخی جدوجہد کے دوران میں اثر انداز ہوتی رہتی ہیں اور اکثر حالات میں اس جدوجہد کی صورت کو متعین کرنے میں ان کا اثر غالب رہتا ہے۔ دوسری جگہ اینگل لکھتا ہے: ” طبعی علوم اور فلسفہ نے اس پہلو پر بھی غور نہیں کیا کہ انسان کے مشاغل اور اس کے اعمال اس کی قوت فکر اور طرزِ خیال پر ضرور اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ علوم انسان کو ایک طرف رکھتے ہیں اور فطرت کو دوسری طرف۔ لیکن فطرت میں جو تبدیلیاں انسان خود اپنی سرگرمیوں سے پیدا کرتا ہے وہ انسانی فکر کی لازمی اور حقیقی بنیاد ہیں۔ جتنا اور جس قدر انسان نے خارجی فطرت کو تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی اسی قدر اس کی عقلی قوت میں ترقی ہوئی۔ تاریخ کا طبعیاتی تصور جو ڈری پر (Draper) اور دوسرے سائنس دانوں کی تحریروں میں ملتا ہے اور جس کی رو سے تنہا خارجی فطرت انسان پر عمل کرتی ہے اور طبعی حالات انسانی تاریخ کی تشکیل کرتے ہیں، بالکل یک طرفہ ہے۔ اس تصور میں یہ امر فراموش کر دیا گیا ہے کہ انسان بھی فطرت پر عمل کر سکتا ہے، اس پر اثر ڈال سکتا ہے، اور اسے تبدیل کر کے زندگی کے نئے حالات پیدا کر سکتا ہے۔“ مشہور کمیونسٹ مفکر پالکھانو (Palkhanov) لکھتا ہے: ” مارکس کو اپنے مادہ پرست پیش روؤں سے شکایت تھی کہ انھوں نے اس امر کو نظر انداز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader