تاریخی ناگزیر یت
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کی ناگزیر یت: مارکسزم کے نزدیک سائنس کے قوانین چاہے وہ فطری سائنس سے متعلق ہوں یا سماجی سائنس سے، سبھی خارجی اعمال کا عکس ہیں جو انسان کی مرضی سے آزاد ہو کر اپنا کام کرتے ہیں، جن کو آدمی نہ تو بدل سکتا ہے اور نہ انھیں مٹا سکتا ہے۔ مثلاً پانی کا یہ اصول ہے کہ اس کو گرم کیا جائے تو ایک خاص مرحلے پر اس کے سالماتی اجزاء منتشر ہو کر اُڑنے لگتے ہیں اور اسی انتشار سے وہ عظیم طاقت پیدا ہوتی ہے جس کو ہم بھاپ کہتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر اسے ٹھنڈک پہنچائی جائے تو ایک خاص نقطہ پر پہنچ کر وہ جمنے لگتا ہے اور برف کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ ایک فطری قانون ہے جس کو معلوم کر کے ہم اسے استعمال تو کر سکتے ہیں مگر اس میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا یا اسے مٹا دینا ممکن نہیں ہے۔ یہ عالم فطرت کے اٹل قوانین ہیں جن کو انسان نے سوچ کر نہیں بنایا، نہ کوئی انسان انھیں بنا سکتا ہے، وہ اپنے آپ قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے۔ انسان انھیں بدل نہیں سکتا جس طرح وہ سورج اور چاند کی گردش کے نظام کو نہیں بدل سکتا، البتہ ان قوانین کا پتہ لگا کر انھیں اپنے لیے مفید بنا سکتا ہے۔ مارکس کا دعویٰ ہے کہ جس طرح انسان کی پیدائش ایک ایسے قانون طبعی کے تحت ہوتی ہے جس پر اسے کوئی اختیار نہیں ہے، اسی طرح سماج کے بدلنے اور ارتقاء کرنے کے قوانین ’’ناگزیر تاریخی وجوب‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پہلے جو کچھ ہوا وہی ہو سکتا تھا اور آئندہ جو کچھ ہونے والا ہے، وہ ہو کر رہے گا۔ انسان اپنے ارادہ سے اس میں رد و بدل نہیں کر سکتا۔ مارکس نے یہ نظریہ اس لیے گھڑا تھا تا کہ وہ سرمایہ داری نظام کے ناگزیر تاریخی زوال کی پیشین گوئی کرے اور مزدور طبقہ کو یہ خوش خبری سنائے کہ تاریخی ارتقاء کے اٹل قانون کے مطابق، ان کا عروج لازمی ہے۔ اس نے انسانی تاریخ کو ایسے متعین سفر کی شکل میں پیش کیا جس کے ایک لازمی مرحلہ کے طور پر سرمایہ داری نظام آیا ہے، اور اسی طرح لازمی طور پر اس کے بعد پرولتاری نظام آئے گا۔ مگر سوال پیدا ہوا کہ فطری سائنس کے قوانین تو مستقل ہیں، وہ ہمیشہ ایک حالت پر رہتے ہیں۔ پھر جب تمام نیچر ایک ہے تو جس طرح ہوا اور پانی کے قوانین میں زمانے کی رفتار سے کوئی تبدیلی نہیں آتی، اسی طرح سماج کے قوانین بھی نہیں بدلنے چاہئیں، ان کو ہمیشہ ایک حالت پر باقی رہنا چاہئے۔ یہ بات مارکس کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader