تاریخی ناگزیر یت
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
خواہش کے خلاف تھی ، کیوں کہ اس کے معنی یہ تھے کہ جو کچھ اس وقت موجود ہے، وہی آئندہ بھی باقی رہے۔ مگر وہ تو حالت کو بدلنا چاہتا تھا۔ آج سرمایہ دار طبقہ جس مقام پر ہے، وہاں پر ولتاریہ کو لانے کا خواہش مند تھا۔ اس طرح ”سرمایہ داری کے زوال اور پرولتاریہ کے عروج‘‘ کی ناگزیر یت ثابت کرنے کے لئے اس نے ایک دعویٰ تو کر دیا مگر پھر فوراً سوال پیدا ہوا کہ یہ ہوگا کیوں کر۔ جب نیچر کے دوسرے قوانین کبھی نہیں بدلتے تو انسانی سماج میں کس طرح تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ پھر تو جس طرح آدمی ہوا میں سانس لینے کے لیے مجبور ہے اور کسی طرح اس کو بدلا نہیں جاسکتا، اسی طرح ملکیتی نظام بھی ہمیشہ باقی رہے گا۔ اس سوال کے جواب میں مارکس نے فوراً دوسرا دعویٰ کر دیا۔ اس نے کہا ”فطری قوانین کے برعکس سماجی قوانین غیر مستقل ہیں۔‘‘ وہ ایک مخصوص تاریخی عہد میں کام کرتے ہیں جس کے بعد خود انہی کے اندر سے کچھ نئے قوانین نکلتے ہیں جو ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ یہ قوانین انسانی ارادہ کی تخلیق نہیں ہوتے بلکہ وہ نئے معاشی حالات میں خود بخود جنم لیتے ہیں۔ ایک طرف وہ کائنات کی وحدت کو نہایت زوروشور کے ساتھ بیان کرتا ہے اور دوسری طرف جب اس نظریہ کا اطلاق عملی دنیا میں اس کی خواہش کے خلاف ظاہر ہوتا ہے تو وہ اس سے انکار کر دیتا ہے۔ اس طرح بظاہر مارکس نے اپنی مشکل حل کر لی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ کہہ کر اس نے پہلے سے زیادہ بڑی دلدل میں اپنے آپ کو ڈال دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سماجی ارتقاء کا یہ لازمی قانون ہے کہ ہر دور اپنے اضداد پیدا کرتا ہے جو پہلے سماج کو ختم کر دیتا ہے تو اشتراک کی سماج کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوگا۔ کیا پرولتاری انقلاب کے بعد سماج کے غیر مستقل قوانین مستقل ہو جائیں گے اور فطرت اور سماج کا اختلاف ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ خود اشتراکی سماج کے ساتھ بھی وہی لازمی کمزوری لگی ہوئی ہے جو غلام سماج ، جاگیرداری سماج اور سرمایہ داری سماج کے ساتھ تھی۔ جن کی تبدیلی صرف ظلم کی شکلوں کی تبدیلی تھی نہ کہ خود ظلم کی۔ پھر کس بنا پر یقین کیا جائے کہ اشتراکیت کے بعد ”ما بعد تاریخی دور‘‘ شروع ہوگا اور انسانیت مستقل طور پر دکھ اور مصیبت سے نجات پا جائے گی۔ اشتراکی حضرات اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اشتراکی سماج چونکہ طبقاتی تضاد سے پاک ہوگا اس لئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader