Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

اضداد کا عمل بھی وہاں نہیں ہوگا۔ مگر یہ کوئی دلیل نہیں ، کیوں کہ خود مارکسی نظریہ تاریخ کے مطابق ، انسان کا اولین سماج اشتراکی سماج تھا جس میں آج کی طرح طبقات نہ تھے۔ مگر اس کے بطن سے غلام سماج بر آمد ہوا۔ پھر جب گزشتہ تاریخ میں ایسا ہوا تو آئندہ ایسا کیوں نہیں ہوگا۔ ارتقاء کے نظریہ کے مطابق، زندگی کا سفر ہمیشہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہونا چاہئے مگر ابتدائی معیاری سماج نے اپنے سے بدتر سماج کی طرف کیسے سفر شروع کر دیا۔ اگر اس وقت یہ ممکن تھا کہ خیر سے شر ظاہر ہو تو آئندہ جو سوشلسٹ سماج بنے گا وہ کیوں کسی دوسرے بدترین سماج میں تبدیل نہیں ہوسکتا۔ طبقاتی نظریہ: مارکس طبقاتی طریق کار میں یقین رکھتا ہے اور ایسے تمام نظریات کا مخالف ہے جو طبقوں کا تصور ختم کر کے’’عوام‘‘ کا تصور پیش کرتے ہیں۔ لینن نے کہا ہے’’ غیر طبقاتی اشتراکیت اور غیر طبقاتی سیاست کے تمام نظریے لغو اور بے معنی ہیں۔‘‘ مارکس کا مطلب بے طبقاتی سماج قائم کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ ملکیت رکھنے والے طبقات کو مٹا کر سب کو بے ملکیت بنا دینا چاہتا ہے، یہ کام کسی ایسے ہی گروہ کے ہاتھوں انجام پا سکتا ہے جو اپنے آپ کو ملکیت کی آلائش سے پاک کر چکا ہو۔’’عوام‘‘ میں ملکیت رکھنے والے اور ملکیت نہ رکھنے والے دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ پھر ایسے مخلوط قسم کے لوگوں کے ذریعہ جو انقلاب آئے گا وہ خالص نہیں ہو سکتا۔ ایسا انقلاب طبقات کو مٹائے گا نہیں بلکہ دوبارہ اس کو قائم کر دے گا۔ اگر آپ کسی گندگی کو دھونا چاہتے ہیں تو اس کی شکل یہی ہے کہ صاف اور بے آمیز پانی سے اسے دھوئیں ۔ ایسا پانی جس میں خود بھی وہی گندگی ملی ہوئی ہو، وہ کس طرح دوسری گندگی کو صاف کر سکتا ہے۔ مارکس کو اپنے مقصد کے لیے کسی محروم طبقہ کی تلاش تھی اور وہ مزدوروں کی شکل میں اسے مل گیا۔ وہ کہتا ہے کہ جدید مشینی صنعت نے اسی فی صدی انسانوں کو ذاتی ملکیت سے محروم کر کے انھیں اپنا اجرت مزدور بنا لیا ہے۔ یہ لوگ صاحب ملک سرمایہ داروں سے الگ ایک ممتاز طبقہ بن گئے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس سب کچھ ہے اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس کچھ بھی نہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جو پوری یکسوئی کے ساتھ ملکیتی نظام کو ختم کرنے کی جنگ لڑ سکتا ہے اور اس کو آخر تک لے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page