Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

طبقاتی نظریہ

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

جا سکتا ہے ۔ کیوں کہ اس کو یہ خطرہ نہیں ہے کہ ملکیت کی تنسیخ سے اس کا اپنا بھی کچھ نقصان ہوگا۔ مارکس کے الفاظ میں ”جدید محنت کش طبقہ کے پاس اپنی بیڑیوں کے سوا کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے‘۔ ایک کمیونسٹ مفکر لکھتا ہے: ” مارکس کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے مزدور طبقہ کا وہ فرض دریافت کیا جو تاریخ نے اس طبقہ کو سونپا تھا مارکس نے بتایا کہ یہی طبقہ سرمایہ داری کی قبر کھودے گا اور سوشلزم کی عمارت اٹھائے گا۔ مارکسزم کا نظریہ ہے کہ محنت کرنے والے اور اپنی محنت سے دوسروں کو نفع دینے والے عوام میں صرف مزدوروں کا طبقہ ایسا ہے جو آخر حد تک انقلابی ہے۔ وہ نجی ملکیت کے بندھن سے آزاد ہے۔“ یہی مصنف دوسری جگہ لکھتا ہے: ” طبقاتی تقسیم پر اس لیے زور دیا جاتا ہے کہ مارکسزم کے مطابق، مزدور طبقہ آدھے راستے پر ستانے کا قائل نہیں۔ اس میں وہ تذبذب اور ارادے کی کمزوری نہیں جو درمیانی طبقوں کی خصوصیت ہے۔ اس میں ہر طبقہ سے زیادہ جوش اور جذبہ پایا جاتا ہے۔“ مارکس کا یہ نظریہ، سماجی ارتقاء کے بارے میں اس کے نظریہ کے مطابق ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سماج جب اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو اس کے اندر سے خود اس کا ضد پیدا ہو جاتا ہے جو اسے ختم کر دیتا ہے۔ سرمایہ داری ایک ملکیتی نظام ہے یہ اپنی ترقی کے دوران میں بہت بڑی اکثریت کو ملکیت سے محروم کر کے صرف اجرتی مزدور بنا دیتا ہے۔ یہی بے ملکیت مزدور صاحب ملک سرمایہ داری کے بطن سے نکلا ہوا اس کا وہ حریف ہے جو اس سے ٹکرا کر اسے ختم کر دے گا۔ مارکس نے یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کے پیش نظریہ بات کہی تھی۔ اس کے فلسفہ کے مطابق، کمیونزم سب سے پہلے وہاں آنا چاہئے تھا جہاں سرمایہ داری نظام سب سے زیادہ ترقی کر چکا ہو، کیوں کہ جہاں صنعتی نظام زیادہ ترقی کر لیتا ہے وہیں اس کا ضد_ بے ملکیت مزدوروں کا گروہ_ پیدا ہوتا ہے جو اسے ختم کر سکتا ہے۔ مگر اس کا یہ نظریہ غلط اشتراکی منشور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page