Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

طبقاتی نظریہ

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

ثابت ہوا اور کمیونزم سب سے پہلے روس میں پھیلا۔ روس ایک زرعی ملک تھا، وہاں مزدوروں کی آبادی کا تناسب اس کے برعکس تھا جو مارکسی نظریے کے مطابق، انقلاب کے قابل کسی ملک میں چاہئے ۔ روس میں مزدوروں کی تعداد ساری آبادی میں ایک جزوی حیثیت رکھتی تھی، اور اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو انفرادی طور پر زمین کے چھوٹے چھوٹے قطعات میں کاشت کرتے تھے۔ جنھیں بعد کو لینن نے " امکانی سرمایہ دار " کا لقب دیا۔ وہاں ابھی وہ طبقاتی تضاد پیدا نہیں ہوا تھا جو اشتراکی انقلاب کا سبب ہوا کرتا ہے۔ روس ابھی پورے طور پر صنعتی ملک نہیں بنا تھا اور وہاں زیادہ تر صاحب ملک جاگیردار کے مقابلے میں چھوٹے چھوٹے کھیتوں کی ملکیت والے کسان تھے۔ اس طرح اس کے اشتراکی نظام کے درمیان ابھی پورے " ایک دور " کا فاصلہ تھا۔ روس ابھی جاگیرداری نظام کے سرے پر تھا، جب کہ مارکسی فلسفہ کے مطابق اس کو اشتراکیت تک پہنچنے کے لیے سرمایه‌داری نظام کی منزل عبور کرنی بھی ضروری تھی۔ دوسرے لفظوں میں ، روس میں ابھی وہ حالات ہی پیدا نہ ہوئے تھے کہ وہاں دو متضاد طبقے ٹکرا جائیں اور انقلاب رونما ہو۔ چنانچہ دوسری انٹرنیشنل کے اکثر ممبروں کی رائے کہ " کسی ملک میں مزدور طبقہ اس وقت تک اقتدار حاصل نہیں کر سکتا اور نہ اسے کرنا چاہئے جب تک اس ملک میں اس کی اکثریت نہ ہو جائے ۔ " اس کے جواب میں لینن نے کہا: " مانا کہ تمہارا یہ دعویٰ صحیح ہے، لیکن فرض کرو، ایک ایسی تاریخی صورت حال (جنگ، زراعتی بحران، وغیرہ) پیدا ہوگئی ہے جس میں مزدور طبقہ جو ملک میں اقلیت میں ہے یہ موقع مل گیا ہے کہ محنت کش عوام کی وسیع اکثریت کو اپنے ساتھ لے کر اقتدار پر قبضہ کر لے تو وہ کیوں نہ ایسا کرے لے۔" اس توجیہہ کو اگر صحیح مان لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ مارکسی انقلاب کی حیثیت تاریخ کے ان انقلابات سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے جس میں ایک ظالم حکمران نے کسی ملک کی حکومت کو کمزور پا کر اس پر قبضہ کر لیا۔ حالاں کہ تاریخ کے اس نقطہ نظر کو مارکسی حضرات بورژوا تاریخ کہتے ہیں۔ مارکس نے اسٹالن، پرابلمز آف لینن ازم، صفحہ ۲۲۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page