طبقاتی نظریہ
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
مزدور انقلاب کو ملک گیری اور لوٹ کھسوٹ کے انقلاب سے الگ کرنے کے لیے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ انسان کی تاریخ ایک لازمی قانون ارتقاء کے تحت سفر کر رہی ہے۔ غلام سماج سے جاگیرداری سماج ہی پیدا ہو سکتا تھا اور جاگیرداری سماج صرف سرمایہ دارانہ سماج پیدا کر سکتا تھا۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ سماج سے اشتراک کی سماج ہی پیدا ہو سکتا ہے۔ لینن نے اپنے مضمون’’مارکس کی تعلیمات‘‘میں لکھا ہے: ’’مارکس نے تمام تر موجودہ سماج کے معاشی قانون حرکت سے ہی یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سرمایہ دارانہ سماج کا اشتراک کی سماج میں بدل جانا ضروری ہے۔ محنت نت نئی تیزی سے ہزاروں صورتوں میں اشتراک کی رنگ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ مزدور طبقہ جس کو دوسرا سرمایہ داری کے ہاتھوں تربیت پائی ہے، اس تبدیلی کی ذہنی اور اخلاقی روح رواں ہے اور وہی اس کو عملی جامہ پہنائے گا۔‘‘ انقلابات کی عام تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کسی ملک کی حکومت کمزور ہوگئی یا وہاں کے مختلف علاقے آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو کر لڑنے لگے تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر کسی نے اپنی فوج کے ساتھ اس پر چڑھائی کردی اور سارے ملک پر قبضہ کر لیا اور جہاں سابق ظالموں کی حکمرانی تھی وہاں نئے ظالموں کی حکمرانی قائم ہوگئی۔ لیکن مارکس نے اشتراکی انقلاب کو اس قسم کی ملک گیری سے ممتاز کرنے کے لیے بالکل ایک نیا تاریخی نظریہ قائم کیا۔ اس نے کہا کہ سماج کے انقلابات کسی خارجی ارادہ کے تحت واقع نہیں ہوتے بلکہ ان کی ایک اندرونی منطق ہے جو اسے ارتقاء کی طرف لے جا رہی ہے۔ اب تک کے انقلابات منصفانہ سماج قائم کرنے میں اس لیے ناکام رہے کہ اب تک کوئی ایسا طبقہ پیدا نہیں ہوا تھا جو صحیح طور پر انقلاب پر رہنمائی کر سکے۔ مگر جدید سرمایہ داری نظام نے بے ملک مزدوروں کا طبقہ پیدا کر کے یہ کام انجام دے دیا ہے۔ یہ بے ملک مزدور وہ گروہ ہے جو ظلم کے اصل سبب یعنی ذرائع پیدا وار کی نجی ملکیت سے پاک ہے۔ اس لیے اس کے ہاتھوں جو انقلاب آئے گا وہ خالص انقلاب ہو گا اور وہ اپنے کو آزاد کرنے کے ساتھ دوسروں کو بھی آزاد کر دے گا۔ اس طرح اس نے فلسفہ تاریخ کے ذریعہ اس بات کی توجیہہ کی کہ پچھلے انقلابات کے برعکس کیوں مزدور انقلاب خوش حالی اور انصاف کا کارل مارکس سلیکٹڈ ورکس جلد اول صفحات ۳۶۔۳۷

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader