طبقاتی نظریہ
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
انقلاب ہو گا۔ لیکن واقعات سے ٹکرانے کے بعد جب یہ نظریہ بے معنی معلوم ہوا تو فوراً اس کی توجیہہ کر دی گئی۔ مگر توجیہہ کرنے والے یہ بھول گئے کہ اس توجیہہ سے وہ خود اپنے خلاف دلیل فراہم کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سرمایہ داری نظام کی کمزوری کیا اس کا نام ہے کہ کسی وقتی سبب سے کسی ملک میں اس کی گرفت کمزور ہوگئی ہو یا یہ کہ مارکس کے فلسفہ اضداد کے مطابق ، اس کے بطن سے اس کا وہ مخالف و ظاہر ہو جائے جو اس کو بالکل طبعی نتیجہ کے طور پر ختم کر سکتا ہے۔ اگر پہلی صورت ہے تو مارکس کا مادی تاریخ کا فلسفہ کہاں گیا۔ پھر تو اشتراک کی انقلاب کسی ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ وہ بھی اس نوعیت کی ایک چیز ہے جیسے ہٹلر نے موقع پا کر پولینڈ پر قبضہ کر لیا یا مسولینی نے حبشہ کی کمزور حیثیت سے فائدہ اٹھا کر اس پر اپنی حکومت قائم کر دی۔ پھر پروٹری انقلاب اور ظالمانہ ملک گیری میں کیا فرق باقی رہتا ہے۔ روس میں جب لینن نے انقلاب کی جد و جہد میں بے ملکیت مزدوروں کے ساتھ صاحب جائداد کسانوں کو بھی شریک کیا تو وہاں بڑے زور و شور کے ساتھ یہ سوال اٹھا کہ اس قسم کی جد و جہد کے ذریعہ جو انقلاب آئے گا کیا وہ اشتراک کی انقلاب ہو سکتا ہے۔ اسی ''عوامی کردار‘‘ کی وجہ سے فرانس کا جمہوری انقلاب سرمایہ داری کے انقلاب میں تبدیل ہو گیا اور جو طاقت بادشاہ سے چھینی گئی تھی وہ محنت کش عوام کی طرف منتقل ہونے کے بجائے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں چلی گئی۔ آخر روس میں بھی کیوں ایسا نہیں ہو گا جب کہ یہاں بھی مزدوروں کے خالص بے ملکیت طبقہ کے بجائے ملے جلے عوام کے ذریعہ انقلاب لایا گیا ہے۔ اس کے جواب میں لینن نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کبھی ''بورژوا جمہوری انقلاب بڑھ کر سوشلسٹ انقلاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔‘‘ اس نے روسی انقلاب کے دو دور قرار دیئے ۔ ایک فروری ۱۹۱۷ء سے اکتوبر ۱۹۱۷ تک (۸ مہینے) جب کہ '' تمام کسانوں کو ساتھ لے کر ملوکیت کے خلاف زمینداروں کے خلاف ، جاگیرداری نظام کے خلاف‘‘ جد و جہد کی گئی۔ یہ جاگیرداری نظام سے سرمایہ دارانہ جمہوری انقلاب تک پہنچنے کی منزل تھی۔ اس دور میں زار کو ختم کیا گیا اور ملک میں عوام کی نمائندہ آزاد جمہوری حکومت قائم کی گئی۔ دوسرا اکتوبر ۱۹۱۷ کے بعد جب کہ '' مفلس کسانوں اور نیم مزدوروں اور تمام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader