طبقاتی نظریہ
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
مظلوموں کو ساتھ لے کر سرمایہ داروں کے خلاف جدوجہد کی گئی، جس میں دیہات کے امراء، دولت مند کسان اور نفع خور بھی شامل ہیں۔‘‘ اس دوسرے دور میں روسی انقلاب سوشلسٹ انقلاب بنا، جب کہ اقتدار براہ راست محنت کش طبقہ یعنی بالشویک پارٹی کے ہاتھ میں آ گیا۔ مگر اس منطقی تاویل سے بھی کام نہ چلا، کیوں کہ پہلے دور میں روس میں جو انقلاب آیا تھا اس کی حیثیت صرف یہ تھی کہ ملک کا اقتدار اعلی زار کے بجائے عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں آ گیا۔ جیسا کہ عام طور پر جمہوری ممالک میں ہوا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی نوعیت کی تبدیلی تھی۔ حالانکہ مارکس اور انگلنز کی واضح تصریحات کے مطابق، اشتراکی انقلاب معاشی تبدیلیوں کا نتیجہ ہوا کرتا ہے۔ اشتراکی پیغمبروں کی ان تحریروں کو بدل دینا ممکن نہ تھا جن کا صریح تقاضا یہ ہے کہ اشتراک کی انقلاب سب سے پہلے انھیں ملکوں میں آئے جہاں جدید سرمایہ داری نظام سب سے زیادہ ترقی کر چکا ہو۔ کیوں کہ سرمایہ داری کا ضد بے ملک مزدوروں کی فوج وہیں پائی جاسکتی ہے۔ اس نظریہ کے مطابق، اشتراک کی انقلاب کی توقع سب سے پہلے مغربی یورپ ہی کے کسی ملک میں کی جاسکتی تھی۔ چنانچہ کمیونسٹ مینی فسٹو جو ١٨٢٨ میں شائع ہوا تھا۔ اس میں سب سے پہلے جس ملک میں اشتراک کی انقلاب کی امید ظاہر کی گئی تھی وہ جرمنی ہے۔ مارکس نے مئی ١٨٢٩ ء میں اپنے اخبار’’ جدید رائئیں گزٹ‘‘ میں لکھا تھا کہ ’’سرخ جمہوریت پیرس کے اوپر جھانک رہی ہے۔‘‘ مگر اشتراک کی انقلاب نہ جرمنی میں آیا، نہ فرانس میں، نہ برطانیہ میں اور نہ امریکہ میں بلکہ وہ روس میں ہوا۔ یہ ایک مشکل سوال تھا جس کی توجیہہ کے لیے لینن کے’’سامراجیت ‘‘کے نظریے سے مدد لی گئی۔ کہا گیا کہ مارکس نے جس سرمایہ داری نظام کو سامنے رکھ کر اس کی تشریح کی تھی وہ اب سامراجی دور میں داخل ہوگئی ہے۔ یہ سرمایہ داری نظام کا قومی اور ملکی حدود سے نکل کر عالم گیر نظام کی شکل اختیار کر لینے کا دور ہے۔ اب صنعتی ممالک صرف اپنی مصنوعات باہر نہیں بھیجتے بلکہ نو آباديات قائم کر کے سرمایہ باہر منتقل کرتے ہیں۔ اس طرح نو آبادياتی پالیسی کے ساتھ مل کر یہ مالیاتی پھیلاؤ ایک ایسا عالم گیر نظام بن گیا ہے جس میں گنتی کے چند’’ترقی یافتہ‘‘ ممالک دنیا کی کثیر آبادی پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ ان باتوں کا ایک نتیجہ یہ ہوا ہے کہ الگ الگ قومی علاقے اور قومی معیشت ایک ہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader