طبقاتی نظریہ
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
عالم گیر معیشت کے سلسلہ کی کڑیاں بن گئی ہیں۔ پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ مزدور انقلاب محض کسی ملک کی اندرونی ترقی کا نتیجہ ہے۔ اب یہ نقطہ نظر کافی نہیں رہا۔ اب سمجھنا چاہیئے کہ مزدور انقلابات اصل میں سامراجیت کے عالم گیر اندرونی تضاد کے بڑھنے یا کسی ملک میں عالم گیر سامراجی محاذ کی زنجیر ٹوٹ جانے کا نتیجہ ہے۔“ اس نظریے کے تحت لینن نے اعلان کیا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ انقلاب سب سے پہلے اس ملک میں آئے جہاں صنعت زیادہ ترقی کر چکی ہے۔ سرمایہ کا مورچہ سب سے پہلے وہیں ٹوٹے گا جہاں سامراجیت کی زنجیر سب سے کمزور ہے۔“ چنانچہ اس اصول کے مطابق، اسٹالن لکھتا ہے کہ ”۱۹۱۷ء میں عالم گیر سامراجی محاذ کی زنجیر اور ملکوں کی بہ نسبت روس میں زیادہ کمزور ثابت ہوئی، وہیں زنجیر ٹوٹ گئی اور مزدور انقلاب کے لیے راستہ صاف ہوگیا۔“ ان تفصیلات کا ذکر کرنے کے بعد اسٹالن لکھتا ہے: ”یہی وجہ ہے کہ مزدور انقلاب کے مسئلہ کا فیصلہ کرنے میں کسی ملک میں مزدوروں کی آبادی کے اعداد وشمار کی اب وہ اہمیت نہیں رہی جس پر دوسری انٹرنیشنل کے کتاب پرست اس قدر زور دیا کرتے ہیں۔ وہ سامراجیت کو نہیں سمجھ سکے اور انقلاب سے طاعون کی طرح ڈرتے ہیں لے۔“ مگر مارکسی حضرات اس کی کیا توجیہہ کریں گے کہ سامراجی نظام کا نو آبادیاتی پھیلاؤ دوبارہ قومی سرمایہ داری کی حدود میں سمٹ آیا ہے۔ لینن نے کہا تھا کہ ”سامراجیت سوشلسٹ انقلابات سے پہلے کی شام ہے۔“ اس نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے ”سامراجیت ــــــــ سرمایہ داری کی آخری منزل۔“ مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ ہو چکا ہے، اور سامراجیت کی تاریکی سوشلسٹ انقلاب کی شکل میں طلوع ہونے کے بجائے ”قومی سرمایہ داری“ کی صبح میں تبدیل ہورہی ہے۔ حتی کہ خود روس بھی اب عالم گیر مزدور تحریک کا مرکز نہیں رہا بلکہ اشتراکیت کا ”مادر وطن“ بن گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ مارکسی حضرات اب کوئی اور نظریہ گھڑیں۔ ے دیکھو اسٹالن کی کتاب ” پرابلمز آف لینن ازم‘‘ صفحہ ۳۰۔۳۵ (ماسکو ۱۹۷۲ء)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader