Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

سماجی ارتقاء کا نظریہ

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

دار طبقہ فنا ہو جائے اور مزدور طبقہ کو سارے اختیارات حاصل ہو جائیں۔ وہ پرامن اور آئینی ذریعہ سے کام کرنے کو موقع پرستی کہتا ہے۔ اس کے نزدیک صحیح طریق کار صرف یہ ہے کہ قوت سے کام لے کر سرمایہ داری نظام کو توڑ پھوڑ ڈالا جائے۔ اس نے عوامی حکومت کا مذاق اڑایا اور اس کو بدلے ہوئے نام کے ساتھ سرمایہ داروں کی حکومت بتایا۔ اس کے نزدیک انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مزدور طبقہ کی حکومت قائم ہو، نہ کہ ’’عوام‘‘ کی جس کے در حقیقت کوئی معنی نہیں، وہ مزدور اور کارخانہ دار کی کش مکش کو کم کرنا نہیں چاہتا بلکہ اس کو آخری حد تک تیز کر دینا چاہتا ہے تاکہ جس کو مٹنا ہے وہ مٹ جائے اور جس کے لیے زندہ رہنا مقدر ہے اسے زندگی حاصل ہو ــــ اس نے کہا کہ محض بعض چیزوں پر ریاستی کنٹرول قائم کر دینے سے کام نہیں چلتا۔ پیدائشی دولت کے تمام ذرائع پر مکمل ریاستی کنٹرول ہونا چاہئے۔ لینن کے الفاظ میں ایک کسان کو اگر چند بیگے زمین کے ساتھ باقی رکھا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ابھی زمین پر ’’امکانی سرمایہ دار‘‘ موجود ہے۔ اس نے قومیت کو استحصال کرنے والے طبقہ کا فریب بتایا اور ایک عالمی انقلاب کے لیے تمام دنیا کے سرمایہ دار طبقہ کے خلاف تمام دنیا کے محنت کش لوگوں کو یکجا کرنے کا نعرہ بلند کیا۔ اس نے مذہب کو افیون قرار دیا جس میں عوام کو مبتلا کر کے سرمایہ دار طبقہ اسے لوٹتا ہے۔ اگر مارکس کے نظریے کو ارتقاء یافتہ نظریہ اور اس کے پیش رو فلسفیوں کے خیالات کو رجعت پسندانہ نظریہ قرار دیا جائے جیسا کہ مارکس کا دعویٰ تھا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانی تاریخ آگے جانے کے بجائے پیچھے کی طرف لوٹ رہی ہے۔ کیوں کہ اب ساری دنیا میں عملاً وہی نظریات قبول کیے جا رہے ہیں جن کو مارکس نے ایک صدی پہلے رد کر دیا تھا۔ روس میں جس حد تک کمیونزم کے نظریات کو اختیار کرنے کی کوشش کی گئی وہ اگر چہ خود مکمل نہیں تھا مگر اس کے بعد جن ملکوں میں یہ نظریہ پھیلا وہاں اور بھی سمٹتا گیا۔ یہاں تک کہ بالکل پیچھے چلا گیا۔ مارکس اپنے سابق سوشلسٹ مفکرین کے برعکس سرمایہ داری نظام کے ساتھ آخری اور فیصلہ کن تصادم کو ناگزیر سمجھتا تھا۔ اس کے ارتقائی سوشلزم کے مطابق مزدور اور سرمایہ دار میں کشمکش کو تیز تر ہو جانا چاہئے تھا، مگر اب یہ نظریہ بدل گیا ہے۔ اب پھر وہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page