سماجی ارتقاء کا نظریہ
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
پرانے زمانے کا سوشلزم آگیا ہے۔ اب نہایت زور و شور کے ساتھ اس بات کی تبلیغ کی جارہی ہے کہ سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں یہ بات نہایت دلچسپ ہے کہ اسٹالن نے اپنے سیاسی حریفوں کو شکست دینے کے لیے ان کے خلاف غیر ملکی سامراجیوں سے ساز باز کا الزام لگایا تھا۔ اور اب خروشیف کو اپنے مخالفوں پر یہ الزام لگانا پڑا ہے کہ وہ سرمایہ دار ملکوں کے ساتھ ’’امن بقائے باہم‘‘ کے مخالف تھے۔ تشدد کے ذریعہ انقلاب لانے کے نظریہ کو چھوڑ کر دوبارہ پر امن انقلاب کا اصول اختیار کر لیا گیا۔‘‘ سرمایہ داری کو قانونی ذرائع سے ہلاک کیا جا سکتا ہے۔ ’’دوسری جنگ عظیم تک اس تصور کو نہایت رجعت پسندانہ خیال کیا جاتا تھا اور اس کا مذاق اُڑایا جاتا تھا۔ یہی نظریہ رکھنے کے جرم میں نجارن کو ’’غدار‘‘ قرار دیا گیا اور اسی کے جرم میں ہزاروں منشویکوں کو بالشویک پارٹی سے خارج کر دیا گیا۔ مگر اب سوشلزم دوبارہ لوٹ کر اسی کی طرف آگیا ہے۔ تمام دنیا کی کمیونسٹ پارٹیوں نے متشددانہ طریقہ کار کے نظریہ سے توبہ کر کے آئینی طریق کار کے رجعت پسندانہ نظریہ کو اختیار کر لیا ہے۔ ’’طبقاتی ریاست کا نظریہ مدت ہوئی ختم ہو چکا ہے اور زمانہ ماضی کا عوامی حکومت کا نظریہ ساری کمیونسٹ دنیا میں تسلیم کیا جانے لگا ہے۔ کمیونسٹ لیگ نے دسمبر ۱۸۴۷ میں کارل مارکس کے اصرار پر اپنا پرانا موٹو ’’تمام انسان بھائی ہیں‘‘ بدل کر نیا موٹو ’’دنیا کے مزدور و متحد ہو جاؤ‘‘ اختیار کیا تھا۔ مگر اب پھر تاریخ کا رخ بدل گیا ہے جو الفاظ پہلے مٹا دئے گئے تھے وہی اب دوبارہ صفحہ کی زینت بن رہے ہیں۔ روس میں اشتراکی نظام ’’مزدور طبقہ کی حکومت‘‘ کی شکل میں ظاہر ہوا تھا اور اب چین نے اپنے لیے عوامی چین (Peoples China) کا روپ اختیار کرنا پسند کیا ہے۔ ذرائع پیداوار پر مکمل ریاستی ملکیت کا نظریہ اب صرف کتابوں میں ہے۔ ورنہ دنیا میں کہیں بھی اب اس کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ حتیٰ کہ روس میں بھی اس کو اختیار نہیں کیا گیا جہاں انقلاب پر تقریباً آدھی صدی کی مدت گزر چکی ہے۔ اشتراکی منشور جو ۱۹۲۸ میں شائع کیا گیا تھا اس میں قدیم سماجی نظام کو ختم کرنے کے لیے تمام ذرائع پیدائش کو ریاست کی ملکیت‘‘ بنانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ زمین کی ملکیت کا مکمل خاتمہ اور وراثت کے تمام حقوق کی تنسیخ کا اعلان کیا گیا ہے۔ مگر دنیا کے کسی اشتراکی ملک میں ابھی تک اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader