سماجی ارتقاء کا نظریہ
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
اختیار نہیں کیا جا سکتا اور نہ بظاہر کسی ملک کا ارادہ ہے کہ وہ ایسا کرے۔ بلکہ اشتراکی ممالک دن بدن اپنے موجودہ مقام سے بھی پیچھے ہٹتے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ یوگوسلاویہ میں عملًا ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی کمیونزم کو دوسری انٹرنیشنل نے خود اپنے ہاتھوں سے ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔ اس کو دوبارہ کمترن (communist international) کے ذریعہ زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ مگر اس میں بھی کامیابی نہیں ہوئی۔ مئی ۱۹۳۳ میں کمیونسٹ انٹرنیشنل کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی مجلس صدارت نے یہ سفارش کی کہ بین الاقوامی مزدور طبقہ کی تحریک کے ہدایتی مرکز کی حیثیت سے کامنٹر م کو برخاست کر دیا جائے ۔ انٹرنیشنل کی تمام قومی شاخوں نے اس تجویز کی توثیق کردی اور ۲۰ مئی ۱۹۳۳ کو دوسری جنگ عظیم کے دوران میں اسے ختم کر دیا گیا۔ پھر اسی صدی کے نصف میں کامن فارم کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا جس کی حیثیت عالمی مزدور تحریک کے ہدایتی مرکز کی نہیں تھی بلکہ محض دفتر اطلاعات کی تھی۔ مگر اسٹالن کی وفات کے بعد اس کا بھی خاتمہ کیا جا چکا ہے اور ہر ملک میں سوشلزم نے قومی سوشلزم کی شکل اختیار کر لی ہے۔ مذہب کے متعلق مارکس کا نظریہ دوسری جنگ عظیم میں ناکام ہو چکا ہے۔ پہلے کمیونزم کو باقاعدہ طور پر مذہب کے مخالف کی حیثیت سے پیش کیا جاتا تھا۔ ۱۸۷۵ میں سوشلسٹ لبر پارٹی نے اپنے گوتھا پروگرام میں مذہب کو ایک ذاتی معاملہ قرار دیا تھا۔ مارکس نے اس پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ: ” مزدور جماعت کو تو اس سے کچھ آگے قدم بڑھا کر انسانی ذہن و ضمیر کو مذہب کے پنجہ اقتدار سے آزاد کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔ مگر یہ لوگ (سوشلسٹ) سرمایہ دار مہا جنوں سے آگے کوئی قدم اٹھانا پسند نہیں کرتے۔“ مگر اب خود کمیونسٹ پارٹیوں نے وہی قدیم زمانے کا نظریہ اختیار کر لیا ہے۔ وہ مسلسل اعلان کر رہے ہیں کہ وہ مذہب کے مخالف نہیں ہیں۔ وہ ہر شخص کو اس کی آزادی دیتے ہیں کہ اپنی مرضی کے مطابق، جو عقیدہ چاہے، رکھے اور جیسے چاہے عبادت کرے ۔ کمیونسٹوں کا دعویٰ تھا کہ ” کمیونسٹ مینی فیسٹو کی اشاعت کے بعد یوٹوپین سوشلزم کا دور ختم ہو گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader