Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

سماجی ارتقاء کا نظریہ

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

اور مارکس اور اینجلس کے سائنٹیفک سوشلزم کا دور شروع ہوا ہے ۔ مگر واقعات نے اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ اب ساری دنیا میں مارکس کے ترقی یافتہ اشتراکی نظریات کے بجائے قدیم مفکرین کے رجعت پسندانہ سوشلزم کو اختیار کیا جارہاہے۔ اس صورتِ حال نے مارکس کے سماجی سائنس کے نظریہ کی تردید کردی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سماج کا کوئی ایسا نگا بندھانظام نہیں ہے جس کے تحت وہ مسلسل ارتقاء کر رہا ہو اور ہمیشہ آگے کی طرف جاتا ہو بلکہ خارجی حالات کے تحت وہ مختلف شکلیں اختیار کرتا رہتا ہے۔ پھر اس سے مارکس کے اس دعوے کی بھی تردید ہو جاتی ہے کہ سماج کے بارے میں رجعت پسندانہ نظریات کیا ہیں اور ترقی پسند نظریات کیا ہیں۔ مارکس کے سائنٹفک نقطۂ نظر کے مطابق، اس کے فیصلے کی بنیاد خود سماج کی ارتقائی حالت تھی۔ یعنی سماج مستقبل میں جو شکل اختیار کرے وہ لازمی طور پر ترقی یافتہ شکل ہے اور ماضی کی جس شکل کو چھوڑ دے وہ لازمی طور پر ناقص صورت ہے۔ اس اصول کے مطابق ، مارکس نے سماج کے متعلق ماضی کے تمام نظریات کو رد کر دیا تھا۔ اس کے نزدیک جو چیز کل درست تھی وہ آج درست نہیں ہوسکتی۔ مگر واقعات نے مارکسی نظریہ کی تردید کردی ہے۔ مارکس نے مستقبل کے سماج کے لیے جس ہیئت کی پیشین گوئی کی تھی اس کو سماج نے اختیار نہیں کیا اور ماضی کی طرف رجعت کر کے ان نظریات کو اختیار کر لیا جن کو ایک سو سال پہلے مارکس غلط قرار دے چکا تھا۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ نظریات کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرنے کی یہ بنیاد صحیح نہیں ہے کہ سماج اپنے سفر کے دوران میں کس کو لیتا ہے اور کسے رد کر دیتا ہے۔ اس کے فیصلے کے لیے کوئی بنیاد ڈھونڈنی پڑے گی۔ یہ سوشلزم کی مثال تھی ۔ اس کے علاوہ دوسری مثالوں سے بھی مارکسی نظریہ کی تائید نہیں ہوتی۔ مثلاً فرانسیسی جمہوریت کو لیجئے ۔ بظاہر جمہوری نظام ایک ارتقائی قدم تھا جو شخصی حکومتوں کے بعد تاریخ نے اٹھایا تھا۔ مگر جون ۱۹۵۸ میں فرانس کی قومی اسمبلی نے جو فیصلہ کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دو سو سال کے نشیب و فراز کے بعد فرانس کی جمہوریت دوبارہ شخصی نظام کی طرف واپس جارہی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق، جنرل ڈیگال کو یہ اختیار دے دیا گیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کی مدد کے بغیر تنہا فرانس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page