سماجی ارتقاء کا نظریہ
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اوپر چھ مہینے تک حکومت کرے۔ مخالف پارٹیوں کے شور و غل کے باوجود یہ قانون سترہ گھنٹہ کے اندر منظور ہو گیا۔ اسمبلی میں ۱۹۹ کے مقابلے میں ۳۳۱ ووٹوں سے اور سینٹ میں ۲۸ کے مقابلہ میں ۲۶۹ ووٹوں سے ایک فوجی کے حق میں ڈکٹیٹر شپ کا یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ مارکس کے سماجی ارتقاء کے نظریہ کے مطابق، فرانس جو شخصی نظام سے جمہوریت تک آگیا تھا، اب چاہیے تھا کہ وہ جمہوری نظام سے پرولتاری نظام کی طرف قدم بڑھاتا مگر ترقی کے بجائے اس نے تنزل شروع کر دیا۔ مارکس نے ایک صدی پہلے کہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔ ”سرخ جمہوریت پیرس کے اوپر جھانک رہی ہے۔“ مگر فرانس کی جمہوریت ’سرخ جمہوریت‘ بننے کے بجائے ’تاریک ڈکٹیٹر شپ‘ میں تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ یہ واقعات صاف طور پر ظاہر کر رہے ہیں کہ تاریخ کے سفر کا کوئی متعین ارتقائی قانون نہیں ہے بلکہ یہاں کوئی باشعور محرک ہے جو اس کو کبھی آگے اور کبھی پیچھے کی طرف لے جاتا ہے۔ ماروں میں سے ہے، نہ یہاں دن ہے نہ رات ہے، نہ دن کی ٹائپ کر سکتے ہیں، ۷۔ اور چھ مہینے گزرنے کے بعد ایک نمائشی کارروائی کر کے اس غیر جمہوری تقرر کو مستقل حیثیت دے دی گئی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader