وجیہہ
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
توجیہہ
سماجی ارتقاء کے بارے میں مارکس کی پیشین گوئیوں پر اب ایک صدی پوری ہو چکی ہے۔ مگر جیسا کہ ہم نے گزشتہ صفحات میں نہایت تفصیل سے واضح کیا ہے، مارکس کے بعد حالات نے اس دوران میں عملاً جو رخ اختیار کیا اس سے مارکسی نظریہ کی تائید نہیں ہوتی بلکہ صریح طور پر اس کی تردید ہوتی ہے۔ مگر مارکس کے متبعین اس واضح حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ مارکسی نظریہ کی توجیہہ کرتے ہیں۔ ۱۹۵۷ء کی ابتداء میں کلکتہ ریڈیو نے ایک سمپوزیم منعقد کیا تھا جس کا عنوان تھا "کیا مارکسزم تقویم پارینہ ہو چکی ہے"۔ اس موضوع پر مختلف لوگوں نے تقریریں کیں ۔ گوہاٹی یونیورسٹی میں اقتصادیات کے پروفیسر ڈاکٹر ٹامس نے تقریر کرتے ہوئے کہا: ".......... ممکن ہے کہ طبقاتی کش مکش، انقلاب اور سرمایہ داری کی تباہی کی پیشین گوئی جو مارکسی نظریہ کے تحت کی جاتی ہے، پرانی بات نظر آئے۔ لیکن کیا اس حقیقت سے بھی انکار ممکن ہے کہ آج دنیا میں سرمایہ کی بے حساب ذخیرہ اندوزی کی جا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں امیر لوگ زیادہ امیر اور غریب لوگ زیادہ غریب ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ چیز ایک مستقل طبقاتی کش مکش اور لازمی انقلاب کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ صرف اسی وجہ سے بہت سے ملکوں میں انقلاب آئے ہیں اور ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی بنا پر ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکیں کہ انقلابات کا دور ختم ہو چکا ہے اور آئندہ کوئی انقلاب آئے گا۔ اگر ملکوں کی بیشتر تعداد ایسی ہے جہاں انقلاب ابھی تک نہیں آیا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان میں سرے سے انقلاب کا کوئی امکان ہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader