وجیہہ
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں ۔ بلکہ یوں کہئے کہ وہاں قومی پیداوار کی زیادہ فراخ دلانہ تقسیم کے ذریعہ انقلاب کو روک دیا گیا ہے ۔‘‘ ’’ اگر فی الحقیقت ایسا ہی ہے تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ کیا یہ اقدامات خواہ یہ سرمایہ جمع کرنے والوں نے خود کیے ہوں یا ان کی طرف سے حکومت نے کیے ہوں اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ انقلاب پھر رونما ہوں گے ۔ لیکن اگر مارکسی نظریہ کی سچائی ان انقلابات سے ثابت نہیں ہوتی جو ماضی میں ہو چکے ہیں تو انقلاب کے عارضی طور پر روک دیے جانے سے یہ نظریہ غلط بھی ثابت نہیں ہوتا ۔‘‘ اس توجیہہ کا مطلب یہ ہے کہ انقلاب کے اسباب سماج کے اندر اب بھی پرورش پا رہے ہیں ، البتہ بعض عارضی اقدامات کی وجہ سے انقلاب کو فی الحال روک دیا گیا ہے ۔ یہ توجیہہ جو ابتداءً کالسٹکی (Kalitasky) نے پیش کی تھی اور اس کے بعد مختلف لوگوں کی طرف سے مختلف انداز میں دہرائی جاتی رہی ہے ، یہ درحقیقت مارکسزم کی توجیہہ نہیں بلکہ اس کی تنسیخ ہے ۔ سماجی تبدیلیوں کے متعلق مارکس کی پیشین گوئی کی بنیاد اس نظریہ پر ہے کہ انسانی سماج کے اندر جو واقعات رونما ہوتے ہیں ان کا اسی طرح ایک اٹل قاعدہ ہے جس طرح مادی دنیا کے اندر ہونے والے واقعات کا قاعدہ ہے۔ یعنی جس طرح زمین ایک معین اصول کے مطابق گردش کر رہی ہے اور کوئی اس کو روک نہیں سکتا ۔ اسی طرح سماج کے اندر ارتقائی تبدیلیاں بھی لازمی تقاضے کے طور پر آتی ہیں ۔ سماجی تبدیلیوں کا ایک اٹل قانون ہے جو انسان کی مرضی سے آزاد ہو کر اپنا کام کرتا ہے ۔ کسی کے بس میں نہیں ہے کہ اس کو بدل سکے ، لیکن اس نظریہ کے برعکس ، توجیہہ یہ کہتی ہے کہ انسان اس تبدیلی کے قانون پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کو عارضی طور پر ملتوی کر سکتا ہے ۔ یہ توجیہہ سماجی تبدیلیوں کے قوانین پر انسانی ارادہ کے تصرف کو محدود مدت کے لیے تسلیم کرتی ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب درمیانی مدت کے لیے آپ انسانی تصرف کو تسلیم کرتے ہیں تو کس منطق سے اس کی آخری منزل کے لیے اس کو تسلیم نہیں کرتے ۔ انقلاب کی درمیانی منزلوں میں اگر انسان کا ارادہ حالات پر اثر انداز ہو سکتا ہے تو اس کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader