Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

مارکس کے حل پر اصولی تنقید اوپر ہم نے مارکس کے فلسفہ کا نظری حیثیت سے جائزہ لیا ہے۔ مارکس کا یہ فلسفہ محض فلسفہ نہیں تھا بلکہ وہ اصل زندگی کے مسائل کے ایک مخصوص حل کے لیے تائیدی نظریہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ مارکس کے نزدیک زندگی کے تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ پیدائشِ دولت کے ذرائع پر اجتماعی ملکیت قائم کر دی جائے۔ اسی حل کو برحق ثابت کرنے کے لیے اس نے وہ فلسفہ گھڑا تھا جس کا ہم نے اوپر کی سطروں میں جائزہ لیا ہے۔ اب ہم مارکس کے تجویز کیے ہوئے حل پر گفتگو کریں گے۔ یہ گفتگو دو پہلوؤں کے اعتبار سے ہوگی۔ اولاً ہم علمی اور اصولی حیثیت سے اس حل کا جائزہ لیں گے۔ اس کے بعد یہ بتائیں گے کہ تجربہ میں یہ حل کیسا ثابت ہوا ہے۔ لینن نے کہا ہے ”سوشلزم کے بغیر انسانی سماج کی نجات ناممکن ہے۔ جنگ بھوک اور دوسری سیکڑوں آفتیں جن میں بے شمار انسان تباہ ہو رہے ہیں، ان سے محض سوشلزم ہی بچا سکتا ہے۔“ مگر حقیقت یہ ہے کہ سوشلزم نے موجودہ خرابیوں کا جو حل تجویز کیا ہے، وہ خود ظلم کی ایک بدترین شکل ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کسی کے چہرہ سے مکھی اڑانے کے لیے آپ اس کے اوپر ایک پتھر کھینچ ماریں، جس کے نتیجہ میں مکھی تو اُڑ جائے مگر آدمی کا چہرہ لہولہان ہو جائے۔ سیاسی جمہوریت کے بعد معاشی جمہوریت: سوشلزم نے زندگی کے مسائل کا جو حل پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ معاشی پیداوار کے ذرائع کو افراد کے قبضہ سے نکال کر پوری سوسائٹی کے قبضہ میں دے دیا جائے۔ اس کا کہنا ہے کہ زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ اس کا معاشی مسئلہ ہے۔ دوسرے تمام مسائل اسی ایک مسئلہ کی شاخیں ہیں۔ انگلس کا مشہور قول ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page