مارکس کے حل پر اصولی تنقید
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
"انسان کو سب سے پہلے کھانے کے لیے خوراک، پینے کے لیے پانی، رہنے کے لیے مکان اور تن ڈھانکنے کے لیے کپڑا چاہئیے ۔ اس کے بعد ہی وہ سیاست، مذہب، سائنس اور فنون لطیفہ میں دل چسپی لے سکتا ہے۔ اس لیے طریق پیدا وار وہ اصل بنیاد ہے جس پر سماجی زندگی کی تعمیر ہوتی ہے۔ یہی وہ اساس ہے جس پر کہ ریاستی ادارے، قانونی تصورات، علوم و فنون حتی کہ مذہبی معتقدات کی رفیع الشان عمارتیں اٹھائی جاتی ہیں۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے بناؤ اور بگاڑ میں اصل چیز جو اہمیت رکھتی ہے وہ یہ سوال ہے کہ حصول معاش کے ذرائع کس کے قبضہ میں ہیں۔ جن لوگوں کے ہاتھ میں معاشیات کے ذرائع ہوتے ہیں وہی حکومت کرتے ہیں۔ ان ہی کی مرضی قانون کی شکل اختیار کرتی ہے، وہی مذہبی اور اخلاقی قدروں کا تعین کرتے ہیں۔ انہی کی پسند ناپسند اور انہی کے نفع و نقصان کے مطابق تمدن کے تمام شعبے ترتیب دیے جاتے ہیں۔ اس طرح یہ معاشی پیداوار کے ذرائع اگر سماج کے قبضہ میں ہوں تو سماج کے تمام شعبے اور اس کے تمام ادارے سماج کے عمومی مفاد کے مطابق کام کریں گے اور اگر ان ذرائع پر چند مخصوص لوگوں کا قبضہ ہو جائے تو ساری سرگرمیوں کا رُخ بس انہی چند ہستیوں کی طرف ہو جائے گا اور عوام کے حصہ میں کچھ نہ رہے گا۔ سوشلسٹ تجزیے کے مطابق، آج صورت حال یہ ہے کہ دولت حاصل کرنے کے تمام ذرائع چند سرمایہ داروں کے قبضہ میں چلے گئے اور بقیہ لوگ صرف ان کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ کچھ لوگوں کے حصہ میں عیش ہے اور بیشتر لوگوں کے حصہ میں افلاس اور بے روزگاری۔ کمیونسٹ مینی فسٹو میں کہا گیا ہے: "پرولتاریہ کے نزدیک قانون، اخلاق اور مذہب سب کے سب بورژوا کے توہمات ہیں جن کے پیچھے ہزاروں بورژوا مفاد چھپے ہوئے ہیں۔" مارکسی تشخیص کے مطابق، اس خرابی کی جڑ دراصل نجی ملکیت کا قانون ہے جس کی وجہ سے ایک شخص کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ دولت کے خزانوں کو اپنی ملکیت بنا کر دوسروں کو اس سے محروم کر دے اور مارکس کی قبر پر اینگلز کی تقریر، بحوالہ کارل مارکس، سلیکٹڈ ورکس، جلد اول، صفحہ ۱۲۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader