مارکس کے حل پر اصولی تنقید
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اصول بالکل کامیاب نہیں ہوا۔ بلکہ جمہوریت خود شہنشاہی نظام کی بدلی ہوئی شکل ثابت ہوئی۔ جمہوریت کی ناکامی کی تفصیلات سے اشتراک کی لٹریچر بھرا ہوا ہے۔ انگلس نے اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ روسو کا معاہدہ عمرانی ایک خونی حکومت (reign of terror) کی شکل میں ظاہر ہوا‘، لینن نے کہا ہے: ”جب جاگیرداری کا تختہ الٹ گیا اور آزاد سرمایہ دارانہ سماج خدا کی زمین پر قائم ہو گیا تو یہ ظاہر ہوتے دیر نہ لگی کہ یہ آزادی محنت کشوں کے لیے جبر واستصال کا ایک نیا نظام لائی ہے“۔ جب ایسا ہے تو کیوں نہ ہم یہ سمجھیں کہ کارل مارکس کی ’’معاشی جمہوریت‘‘ کا بھی وہی انجام ہوگا جو اس سے پہلے روسو کی ’’سیاسی جمہوریت‘‘ کا ہو چکا ہے۔ جب دونوں کا فلسفہ ایک ہے اور دونوں جگہ حصول مقصد کے لیے یکساں طریق کار اختیار کیا گیا ہے تو آخر دونوں کا انجام کیوں مختلف ہوگا۔ جب دونوں کی منطق ایک ہے تو دونوں کا نتیجہ بھی ایک ہی ظاہر ہونا چاہئے۔ جمہوریت اور اشتراکیت دونوں بے طبقاتی سماج میں یقین رکھتے ہیں۔ دونوں کا مقصد ایک ایسا معاشرہ پیدا کرنا ہے جہاں اونچ نیچ نہ ہو۔ جہاں سب کو یکساں مواقع حاصل ہوں۔ فرق صرف یہ ہے کہ دونوں مختلف راہوں سے اس کام کو انجام دینا چاہتے ہیں۔ انسانی ساخت کے یہ دونوں نظریے اگر چہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حقیقتاً دونوں کا طرز فکر بالکل ایک ہے۔ جمہوریت نے کہا کہ سماج میں طبقات پیدا ہونے کی بنیاد یہ ہے کہ اقتدار سارے عوام کی ملکیت نہ ہو بلکہ صرف چند لوگوں کے ہاتھ میں ہو۔ کچھ لوگ حاکم اور بادشاہ ہوں اور بقیہ تمام لوگ ان کی رعایا ہوں۔ اس لیے اس نے نعرہ لگایا کہ ’’حکومت سارے عوام کا حق ہے، اس پر سارے عوام کا قبضہ ہونا چاہئے‘‘۔ مگر نظری اعتبار سے یہ بات خواہ کتنی ہی دلکش ہو، یہ واقعہ ہے کہ ملکی انتظام کا کام تمام لوگ نہیں کر سکتے اس لیے اقتدار کولازماً چند لوگوں کے ہاتھ میں مرتکز کرنا ہوگا۔ چنانچہ جمہوریت نے الیکشن کا طریقہ اختیار کیا۔ جس کے معنی یہ تھے 1 لینن سلیکٹڈ ورکس، جلد اول، صفحہ ۶۲ ، ماسکو ۷ ۱۹۷۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader