مارکس کے حل پر اصولی تنقید
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ عوام اپنی مرضی سے اپنا حق ملکیت چند اشخاص کے ہاتھ میں دے رہے ہیں تا کہ وہ مفاد عامہ کے مطابق اس کو استعمال کریں۔ مگر خود مارکسی حضرات کے قول کے مطابق، عملًا یہ ہوا کہ چند لوگ جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئے تھے، نسلی بادشاہوں کی جگہ جمہوری شہنشاہ بن کر عوام کے سروں پر مسلط ہو گئے۔ ٹھیک اسی طرح مارکسزم نے کہا کہ سماج کے اندر طبقات کی بنیاد یہ ہے کہ معاش حاصل کرنے کے ذرائع عوام کے بجائے چند لوگوں کے ہاتھ میں چلے جائیں جو مالک بن کر اس پر قبضہ کر لیں اور بقیہ لوگ ان کی ملازمت اور مزدوری کرتے رہیں۔ اس لیے اس نے نعرہ لگایا کہ’’ذرائع پیداوار عام لوگوں کا حق ہیں، ان پر سارے عوام کا قبضہ ہونا چاہیے۔‘‘ مگر ٹھیک وہی سوال یہاں بھی پیدا ہوتا ہے جو سیاسی جمہوریت کے سلسلہ میں پیدا ہوا تھا۔ یعنی یہ کہ نظری اعتبار سے ذرائع پیداوار کو سارے عوام کی ملکیت کہہ دینے سے فی الواقع وہ سارے عوام کی ملکیت نہیں بن جاتے، بلکہ اس کے انتظام کے لیے چند لوگوں کو مقرر کرنا ہو گا جو مفاد عامہ کے مطابق، اس کی پیدائش اور تقسیم کا بندوبست کریں۔ مارکسزم نے کہا کہ ’’چند لوگ‘‘ محنت کش طبقے کے نمائندہ ہوں گے، جو سب کے مفاد کے مطابق، ذرائع پیداوار کا انتظام کریں گے۔ یہ نئے الفاظ اور نئے عنوان کے ساتھ ٹھیک وہی بات ہے جو جمہوریت نے کہی تھی۔ البتہ اس میں ’’چند لوگوں‘‘ کا دائرہ کار بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ وہ سیاست کے ساتھ آبادی کے ایک ایک شخص کی معاش کے بھی ذمہ دار ہیں۔ جمہوریت نے اپنے ’’منتخب نمائندوں‘‘ کو صرف سیاسی خدا وند بنایا تھا۔ مارکسزم نے سیاسی خدا وندی کے ساتھ انھیں ان داتا کا مقام بھی دے دیا۔ مارکسی نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ تنظیم معاشیات کا کام سرمایۂ ہاتھ سے نکل کر سیاست کے ہاتھ میں چلا جائے۔ یہ سانپ کو مار کر اثر دبے کو زندہ رکھنا ہے۔ یہ نظریہ مسئلہ کو حل نہیں کرتا بلکہ اس کو اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ مارکسی حضرات موجودہ بورژوا جمہوریت پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام بظاہر تو اس بات کا مدعی ہے کہ وہ عوامی حکومت کا نظام ہے مگر در حقیقت وہ چند اشخاص کا نظام ہے جو عوام کے ووٹوں سے اپنی حکومت کے لیے سند جواز حاصل کرتے ہیں۔ مگر کیا اشتراکیت کے پاس اجتماعی ملکیت کے نظام کو چلانے کے لیے اس کے سوا کوئی اور طریق کار ہے جو جمہوریت نے اختیار کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader