Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

جمہوریت نے پارلیمانی طریق کار اختیار کیا ہے۔ وہ اپنے دعوے کے مطابق تو عوامی نظام ہے مگر حقیقت یہ عمل بالواسطہ طور پر انجام پاتا ہے، اس میں تمام افراد معاملات کو فیصل کرنے میں براہ راست حصہ نہیں لیتے بلکہ اپنے نمائندوں کے واسطے سے اس میں شریک ہوتے ہیں۔ پوری آبادی میں سے کچھ متعین لوگ ووٹر ہوتے ہیں پھر یہ ووٹر اپنی رایوں سے ایک مجلس نمائندگان کا انتخاب کرتے ہیں۔ پھر اس مجلس نمائندگان میں سے وہ چند لوگ منتخب کیے جاتے ہیں جو حکومت کو چلاتے ہیں۔ اس طرح عملاً حکومت کے سارے اختیارات چند لوگوں کے ہاتھ میں سمٹ جاتے ہیں۔ ٹھیک یہی طریقہ خود کیمونزم نے بھی اختیار کیا ہے۔ اشترا کی حکومتیں دوسرے لفظوں میں محنت کش طبقہ کی حکومتیں ہیں جو مارکس کے الفاظ میں آبادی کا 80 فی صدی حصہ ہیں۔ مگر یہاں بھی وہ صورت حال نہیں ہے اور نہ در حقیقت ممکن ہے جو قدیم زمانے میں یونان کی چھوٹی چھوٹی شہری حکومتوں کی تھی جب کہ اجتماعی معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے سارے شہری جمع ہوا کرتے تھے۔ بلکہ یہاں بھی وہی نمائندگی کا بالواسطہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ پارلیمانی نظام کی ساخت ہی کچھ اس قسم کی ہے کہ نظری طور پر تو وہ سارے عوام کی حکومت ہے، مگر عمل میں آتے آتے وہ صرف ایک یا چند اشخاص کی حکومت بن جاتی ہے اور جب اس نظام کے ساتھ اشتراکیت بندی کے اصول کو بھی اپنا لیا جائے تو پھر تو اس کی مرکزیت کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ اشتراک کی سماج کی نوعیت کو اگر چند الفاظ میں ادا کرنا چاہیں تو یوں کہا جاسکता है कि: " اشترا کی حکومت میں اقتدار کلیہ محنت کش طبقہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے یعنی کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یعنی اسٹالن کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔" مارکسی حضرات یہ کہتے ہیں کہ اشترا کی نظام میں وہ خرابیاں پیدا نہیں ہو سکتیں جو جمہوری نظام میں پیدا ہوئیں۔ کیوں کہ جمہوری نظام نے جو تبدیلی تجویز کی تھی وہ حقیقی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ظالمانہ نظام نے صرف اپنا لباس بدل لیا تھا۔ زندگی میں اصل فیصلہ کن عنصر اس کی معاشیات ہوتی ہے۔ معاشی ذرائع جن لوگوں کے ہاتھ میں ہوں وہی لوگ بالآخر تمام معاملات کے مالک ہو جاتے ہیں۔ جمہوری تحریک نے معاشی ذرائع کو نجی مالکوں کے ہاتھ میں رہنے دیا۔ صرف سیاست کو عوامی ملکیت بنانے کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page