مارکس کے حل پر اصولی تنقید
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
نعرہ لگایا۔ ظاہر ہے کہ اس تبدیلی کے کوئی معنی نہیں تھے۔ کیوں کہ جب اختیارات کی اصل کنجی افراد کے قبضہ میں ہو تو حکومت بنانے کی قانونی شکل بدل دینے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ تو صرف یہی ہوگا کہ جو طبقہ اس وقت معاشی اختیارات پر قابض ہے وہی اپنی حیثیت سے فائدہ اٹھا کر سیاسی اختیارات پر بھی قبضہ کرلے گا۔ دوسرے لفظوں میں کمیونزم اس شاخ کو ہی کاٹ دینا چاہتا ہے جس پر موقع پرست لوگ اپنا آشیانہ بناتے ہیں۔ جب کسی ملک میں معاشی ذرائع و وسائل کو عوام کی ملکیت‘‘ بنا دیا جائے تو وہاں سیاسی اختیارات خود بخود عوام کے قبضہ میں چلے جاتے ہیں اور عوام کو حقیقی معنوں میں آزادی حاصل ہو جاتی ہے۔ مگر اس تاویل کی حقیقت ایک مغالطہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ کسی سماج کے اندر خرابیاں کیوں پیدا ہوتی ہیں۔ محض اس لیے کہ سماج کے بعض افراد کو سماج کے دوسرے افراد کے مقابلے میں زیادہ اختیارات اور زیادہ مواقع حاصل ہو جاتے ہیں۔ اگر سماج کا ہر فرد یکساں ہو اور کسی کو دوسرے پر فوقیت حاصل نہ ہو تو ظلم اور لوٹ کھسوٹ کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں اختیارات کی مرکزیت ہی وہ اصل سبب ہے جو سماج کے اندر نا انصافی کا سبب بنتی ہے۔ اسی بنا پر مارکسی حضرات انفرادی ملکیت کے مخالف ہیں۔ کیوں کہ اس نظام میں ایک شخص کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ ذرائع معاش اپنے پاس اکٹھا کرلے۔ سماج میں نابرابری پیدا کر کے اپنی بڑھی ہوئی حیثیت سے فائدہ اٹھائے اور پھر اپنے سے کمزوروں پر ظلم کرنا شروع کر دے۔ کمیونسٹ مینی فسٹو میں مارکس اور اینگلس نے سرمایہ دارانہ جمہوری نظام پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’ذرائع پیدائش کو مرتکز کر کے دولت کو چند افراد کے قبضہ میں دینے کا لازمی نتیجہ سیاسی مرکزیت ہے۔‘‘ اختیارات کی اسی مرکزیت کو ختم کرنے کے لیے مارکس نے اختیارات کو سماجی ملکیت بنانے کا نعرہ لگایا۔ مگر اس نے جو شکل تجویز کی ہے کیا حقیقتاً اس سے اختیارات عوام کی ملکیت بن جاتے ہیں اور سماج کو ’’مرکزیت‘‘ کی لعنت سے نجات مل جاتی ہے۔ کسی چیز کا ایک نام رکھ دینے سے اس کی حقیقت نہیں بدل جاتی۔ موجودہ جمہوری نظام یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے سیاسی اختیارات کو سارے عوام کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader