Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

ملکیت بنا دیا ہے مگر اشتراک کی حضرات اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتے، بلکہ عملاً جمہوری نظام کا تجزیہ کر کے دیکھتے ہیں کہ فی الواقع اختیارات کا مالک کون ہے۔ اسی طرح خود اشتراک کی حضرات کے دعوے کو بھی عمل کی دنیا میں جانچ کر دیکھا جائے گا کہ وہ فی الحقیقت کیا شکل اختیار کرتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جس طرح سرمایہ دارانہ سماج میں پیداوار کے ذرائع کو حرکت دینے کا اختیار چند سرمایہ داروں کو حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح اشتراک کی سماج میں بھی اس کے بغیر چارہ نہیں کہ ان ذرائع کو حرکت دینے کا اختیار چند کامریڈوں کو سونپ دیا جائے۔ دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ ایک جگہ اختیارات کی مرکزیت انفرادی ملکیت کے نام پر ہوتی ہے اور دوسری جگہ یہی عمل سماجی انتظام کے نام پر انجام دیا جائے گا۔ اس طرح صرف شکلوں کا فرق ہے ورنہ اصل خرابی ــــ ارتقا دونوں جگہ پایا جاتا ہے۔ پھر جمہوریت کے عوامی نظریہ کا جو انجام ہوا وہی آخر مارکسزم کے ”مزدور نظریہ“ کا کیوں نہ ہوگا۔ جب کہ اس میں مرکزیت کی خرابی دگنی شدت کے ساتھ جمع ہو گئی ہے۔ لینن نے روس کے موجودہ اشترا کی نظام کو ”سٹیٹ سوشلزم“ سے تعبیر کیا تھا۔ مگر سٹیٹ سوشلزم زیادہ صحیح لفظوں میں ”سٹیٹ کیپٹلزم“ ہے۔ روسی کمیونسٹ پارٹی کی بیسویں کانگریس میں اسٹالن کے بارے میں جو اعترافات کئے گئے ہیں وہ بھی اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ معاشی وسائل کو عوامی ملکیت بنا دینے سے حقیقتاً اختیارات عوام کے ہاتھ میں آجاتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اسٹالن نے جس وقت مفاد عامہ کے طریقہ پر کام کرنے سے انحراف کیا تھا اس وقت فوراً عوام اسے برطرف کر دیتے، نہ کہ انتہائی ظالم بن جانے کے بعد بھی وہ اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک ملک کا حاکم بنا رہا اور روس کے کسی بڑے سے بڑے آدمی حتیٰ کہ کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری کو بھی جرات نہ ہوئی کہ اس کے رویہ پر تنقید کر سکتا۔ اجرتى غلامی کا نظام: مارکسی مفکرین موجودہ ملکیتی نظام کو ”اجرتی غلامی“ کا دور کہتے ہیں۔ جس میں انسان بظاہر آزاد رہتے ہوئے بھی اپنی گزرا اوقات کے لیے مجبور ہے کہ کسی سرمایہ دار کے لیے اجرت پر کام کرے۔ ان کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page