اجرتی غلامی کا نظام
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
کہنا ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ سماج نے غلامی کی پچھلی زنجیریں توڑ ڈالی ہیں، مگر سرمایہ کا پھندا آج بھی مزدوروں کے گلے میں پڑا ہوا ہے۔ قانون کی نظر میں سرمایہ دار اور مزدور کے حقوق یکساں ہیں، مگر تمام ذرائع پیداوار پر سرمایہ داروں کا قبضہ ہے اور جس طبقہ کے ہاتھ میں سماج کے ذرائع پیداوار ہوتے ہیں وہی طبقہ سماج کا حکمراں طبقہ بن جاتا ہے، اور باقی تمام لوگ اس کے دست نگر ہوجاتے ہیں۔ کسی سماج میں ذرائع پیداوار کا سرمایہ داروں کے ہاتھ میں رہنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک مٹھی بھر اقلیت پورے سماج پر قابض ہے۔ اس کے معنی صرف یہ نہیں ہیں کہ لوہا، کوئلہ، تیل، اناج، کپڑا، سیمنٹ، وغیرہ پر اس کی اجارہ داری ہے بلکہ اجتماعی زندگی کے سارے اختیار بھی اسی کو حاصل ہوتے ہیں۔ پریس، اخبار، ریڈیو، تعلیم گاہیں، سینما، لکچر ہال، غرض وہ تمام چیزیں بھی اس کے اختیار میں چلی جاتی ہیں جن سے سیاسی رائیں اور خیالات بنتے ہیں۔ اس طرح آدمی کے جسم سے لے کر اس کے دماغ تک پورا وجود اس کی مٹھی میں ہوتا ہے اور وہ جمہوریت کے خوب صورت عنوان سے اپنی ڈکٹیٹر شپ لوگوں کے او پر مسلط کر دیتا ہے۔ موجودہ جمہوری نظام کے متعلق مارکسی مفکرین بڑے زوروشور کے ساتھ یہ بات کہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بات جمہوریت سے زیادہ اس نظام پر راست آتی ہے جس کو یہ حضرات جمہوریت کے بعد لانا چاہتے ہیں۔ جس طرح جمہوریت اختیارات کو مخصوص گروہ کے ہاتھ میں مرتکز کرتی ہے۔ اسی طرح سوشلزم بھی تمام اختیارات کو ایک مخصوص پارٹی کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ پھر ’’مزدوروں کی حکومت‘‘، کس لیے عوام کی حکومت سے مختلف ہوگی۔ جمہوری تحریک نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ ’’شاہی طبقہ کے بجائے عوام کی حکومت‘‘ ہونی چاہئے۔ مگر جب اس نعرہ کو عمل کی صورت دی گئی تو بقول آپ کے، عوام کے چند نمائندے‘‘ سارے اختیارات اور ذرائع و وسائل پر قابض ہوگئے اور عوام کی حالت میں اس کے سوا کوئی تبدیلی نہیں ہوئی کہ وہ ایک آقا کی غلامی سے نکل کر دوسرے آقا کی غلامی میں چلے گئے۔ اسی طرح اشتراکیت کا نعرہ ہے کہ ’’سرمایہ دار طبقہ کے بجائے مزدوروں کی حکومت‘‘ پھر کیوں ایسا نہیں ہوگا کہ اشتراک کی انقلاب کے بعد جن ’’مزدور نمائندوں‘‘ کو ریاستی اقتدار اور معاشی اسباب و ذرائع سونپے جائیں گے وہی بالآخر ڈکٹیٹر بن جائیں گے اور جبر و استحصال کا نیا نظام قائم ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader