اجرتی غلامی کا نظام
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے گا۔ موجودہ بورژوا طبقہ کے بارے میں مارکس اور انگلَس نے لکھا ہے کہ اس نے ’’مذہبی اور سیاسی فریب کے پردہ میں روپوش استحصال کو عیاں، بے غیرت، براہ راست اور وحشیانہ استحصال میں تبدیل کر دیا ہے‘‘۔ یہ تنقید جس قدر ’’بورژوا نظام‘‘ پر صادق آتی ہے اس سے زیادہ خود اشترا کی نظام پر صادق آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جبر اور اقتصادی لوٹ جو موجودہ نظام میں بے قاعدہ طور پر ہورہی ہے اس کو اشترا کی نظام باقاعدہ اور منظم بنا دیتا ہے۔ حکمران گروہ جو عام حالات میں صرف پولیس اور فوج کا مالک ہوتا ہے، مارکس انہی کے ہاتھ میں سارے ملک کی معاشیات بھی دے دیتا ہے۔ کیا یہ ظلم پر عذابِ عظیم کا اضافہ نہیں ہے؟ جمہوری معاشیات میں آدمی کو صرف معاشی تکلیف ہوتی ہے مگر اشترا کی معاشیات میں ایک مزید نقصان یہ ہے کہ معاشی تکلیف پر تمدنی عذاب کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ سرمایہ داری نظام میں تو آدمی آزاد ہے کہ اپنی مرضی سے کوئی پیشہ اختیار کرے، مگر اشترا کی نظام میں اسی کے ساتھ آدمی کو دفتر یت اور نوکر شاہی کا بھی شکار ہونا پڑتا ہے۔ آزاد لین دین اور سرکاری افسروں کے ذریعہ معاش کی تنظیم میں زبردست فرق ہے۔ پہلی صورت میں آدمی آزاد ہوتا ہے کہ وہ کس پیشہ کو اختیار کرے ۔ وہ کتنا وقت کس کام میں دے، وہ جب کوئی کام کرتا ہے یا کسی دکان سے سامان خریدتا ہے تو دوسرے سے اس کا معاملہ ایک برابر کے آدمی کا ہوتا ہے۔ دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو اس کی ضرورت کی کوئی چیز دیتا ہے اور اس سے اپنی ضرورت کی کوئی چیز لیتا ہے اس طرح دونوں کے درمیان برابر کا معاملہ ہوتا ہے، مگر سرکاری تنظیم میں ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے اوپر کچھ لوگ ہیں جو اس کے خداوند ہیں۔ وہ جو کچھ کر سکتا ہے اپنے اوپر کے ایک صاحب اختیار کی اجازت سے کر سکتا ہے۔ اس طرح معاملہ دو برابر کے آدمیوں کے درمیان ہو جاتا ہے جن میں سے ایک بے اختیار ہے اور دوسرا با اختیار، ایک اجازت مانگنے والا ہے اور دوسرا وہ جس کے دستخط سے اجازت ملے گی ۔ اس طرح ہر شخص یا تو کسی کا خداوند ہوتا ہے یا اس کے اوپر کوئی خداوند ہوتا ہے۔ آزاد معیشت میں آدمی کی خودی باقی رہتی ہے اور ترقی کرتی ہے اشترا کی منشور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader