مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
جب کہ سرکاری انتظام میں اس کی خودی مر جاتی ہے اور ہر شخص اپنے سے اوپر والوں کی خوشامد کرنے والا اور اپنے سے نیچے والوں کے لیے متکبر بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’اجرتی غلامی‘‘ کا لفظ اگر صحیح معنوں میں کہیں راست آتا ہے تو وہ اشتراکی معاشرہ ہے۔ جمہوری معاشرہ میں آدمی اجرت پر کام کرتا ہے مگر وہ اس کے لیے مجبور نہیں ہوتا۔ وہ اگر چاہے تو مزدوری کو چھوڑ کر تجارت یا کوئی آزاد پیشہ کر سکتا ہے، جب کہ اشتراکی نظام میں اس کے سوا رزق کی کوئی صورت ہی نہیں کہ آدمی سرکاری ملازمت کرے یا سرکاری کارخانوں میں مزدور بن جائے ۔ اس کے علاوہ جمہوری معاشرہ میں آدمی پھر بھی آزاد ہوتا ہے۔ جب کہ اشتراکی معاشرہ میں مکمل سیاسی اور معاشی آمریت اس کے اوپر مسلط ہو جاتی ہے۔ ’’مزدوروں کی ڈکٹیٹر شپ‘‘ دراصل نام ہے تمام لوگوں کو مزدور بنا کر ان کے اوپر ڈکٹیٹر شپ قائم کرنے کا۔ اجتماعی ملکیت کا نظام انفرادی لوٹ کی بدترین شکل: ملکیتی نظام کے خلاف مارکسزم کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس میں بالآخر سارا سرمایہ سمٹ کر چند لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے اور یہ گروہ اتنا طاقتور ہو جاتا ہے کہ تمام سیاسی اور معاشی سرگرمیوں پر اس کی اجارہ داری قائم ہو جاتی ہے۔ حکومتوں کی پالیسی بالکل اس گروہ کے مفاد کی پابند ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ صرف یہی نہیں ہوتا کہ ملک کے باشندے سرمایہ داروں کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں، بلکہ سرمایہ داروں کے درمیان باہمی مفاد کی کشمکش بین الاقوامی دنیا کے امن کو بھی غارت کر دیتی ہے جس کی ایک نمایاں مثال دوسری جنگ عظیم ہے۔ ۱۹۱۴ء کی لڑائی کے بعد تمام بڑے ممالک کے درمیان آپس میں معاشی جنگ چھڑ گئی ۔ ہر ملک کی حکومت نے اپنے ملک کے سرمایہ داروں کے دباؤ میں پڑ کر دوسرے ملک کے خلاف فیصلے کیے ۔ دوسرے ملکوں کے مال کی درآمد پر بھاری بھاری محصول لگائے۔ جس کا نتیجہ تاریخ کی سب سے زیادہ ہولناک جنگ دوسری جنگ عظیم کی شکل میں برآمد ہوا۔ ایک کمیونسٹ ادیب کے الفاظ میں ’’سرمایہ داروں کے مفاد کے باہمی ٹکراؤ کا نام دوسری جنگ عظیم ہے۔‘‘ موجودہ سرمایہ داری نظام کے خلاف مارکسزم کا یہ مقدمہ بالکل صحیح ہے، مگر خود اس نے اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader