Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

اجتماعی ملکیت کا نظام انفرادی لوٹ کی بدترین شکل

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

مشکل کا جو حل پیش کیا ہے وہ اسی برائی کی ایک بدترین شکل ہے جس کو مٹانے کا وہ دعویدار ہے۔ آپ اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے عام پبلک کو ملکیت کے حق سے محروم کر رہے ہیں مگر کھیتی، کاروبار اور نشر و اشاعت کے مختلف اداروں کو چلانے اور ضروریات زندگی کا سامان فراہم کرنے کے لیے بہر حال آپ کو کوئی انتظام کرنا ہو گا۔ یہ انتظام یقیناً ملک کے تمام باشندے نہیں کر سکتے بلکہ کچھ مخصوص لوگوں کو اس کا انتظام سپر د کرنا ہو گا۔ یہ منتظمین قدرتی طور پر وہی لوگ ہوں گے جن کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہوگی۔ جو لوگ سیاسی اختیارات کے مالک ہیں، انہی کو آپ معاش اور روزگاری کی ٹھیکیداری بھی سونپ دیں گے۔ گویا دو مختلف اختیارات جو پہلے تاجروں اور سیاسی لیڈروں میں بٹے ہوئے تھے، ان کو آپ اکٹھا کر کے صرف سیاسی لیڈروں کے حوالہ کر دینا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ نئے منتظمین جب آہستہ آہستہ تمام اختیارات پر قابض ہو جائیں گے اور روٹی کی تقسیم سے لے کر خیالات کی اشاعت تک ہر چیز ان کے قبضہ میں چلی جائے گی تو کیا اس طرح پہلی اجارہ داری سے بڑی اور خطرناک اجارہ داری نہیں پیدا ہو گی جس کے مٹانے کے لیے آپ نے تمام آبادی کو ملکیت اور آزاد ذریعہ معاش سے محروم کر کے محض سرکاری ملازمین میں تبدیل کر دیا تھا۔ اجارہ داری کا مطلب اگر یہی ہے کہ کچھ لوگوں کے ہاتھ میں بیشتر لوگوں کا رزق آ جائے تو کیا یہ اجارہ داری نہیں ہے کہ چند سیاسی لیڈر پورے ملک میں روٹی اور کپڑے کے ٹھیکیدار بن جائیں۔ نہ کسی کو کھیتی کرنے کی اجازت ہو نہ کاروبار کرنے کی۔ سارے ملک کا بس ایک ان داتا ہو اور سب کا رزق اسی کے دربار سے تقسیم ہوتا ہو۔ یہ اجارہ داری جن لوگوں کے ہاتھ میں ہو گی وہ اگر بگڑ جائیں تو پورے ملک کو جیل خانہ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ان اجارہ داروں کے ہاتھ میں محض کوئی ایک صنعت یا کارخانہ نہیں ہوگا بلکہ سارے ملک کے تمام ذرائع معاش ان کے قبضہ میں ہوں گے۔ پریس اور تعلیم گاہیں بھی انہی کے قبضہ میں ہوں گی۔ ہر قسم کی پنشنوں اور ملازمتوں کے تقرر کا حق انہی کو حاصل ہوگا۔ ان کو اختیار ہوگا کہ جس کو جو کچھ چاہیں دیں اور جس سے جو چاہیں چھین لیں۔ وہ اگر کسی سے خفا ہو جائیں تو سارے ملک میں اس کو کہیں روزگار نہیں مل سکتا۔ کیوں کہ روزگار کی تمام شکلوں کے وہ تنہا اجارہ دار ہیں۔ وہ جس کو روٹی نہ دینا چاہیں، وہ کہیں سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page