اجتماعی ملکیت کا نظام انفرادی لوٹ کی بدترین شکل
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ کیوں کہ رزق کے تمام خزانوں کی کنجیاں انہی کے پاس ہیں۔ وہ خواہ کتنا ہی ظلم کر ڈالے مگر کسی پریس میں اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جاسکتی، کیوں کہ پریس بھی سب کے سب انہی اجارہ داروں کی مٹھی میں ہیں۔ اس طرح کی اصلاح کا مطلب صرف یہ ہے کہ برلا اور ٹاٹا کو ختم کر کے چند وزیروں اور گورنروں کو ان کی جگہ پر بٹھا دیا جائے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ برلا اور ٹاٹا کو زندہ رکھیں، مگر یہ کون سی عقل مندی ہے کہ چھوٹے اور بے اختیار سرمایہ داروں کو ختم کر کے ایک سب سے بڑا سرمایہ دار اپنے سروں پر مسلط کر لیں اور وہ بھی ایک ایسا سرمایہ دار جس کو لامحدود اختیارات حاصل ہوں۔ جس کے خلاف ہڑتال کرنا اور جس کو بدلنے کی کوشش کرنا آپ کے بس میں نہ رہے۔ آج اگر سیٹھ رام کرشن ڈالمیا کوئی زیادتی کرے تو پولیس اس کو گرفتار کر لیتی ہے۔ لیکن وزیر اور گورنر صاحبان اگر زیادتی کرنے لگیں تو ان کو کون گرفتار کر سکتا ہے۔ ان کے خلاف وارنٹ جاری کرنے والا خود ان کا ملازم ہے پھر کس کو جرأت ہے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی ملکیت کا نظام انفرادی لوٹ کی بدترین شکل ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ لوٹنے والے جواب تک محض اپنی دولت کے زور سے لوٹ رہے تھے ان کو اس بات کا موقع دے دیا جائے کہ وہ اپنی کارروائیوں کے لیے قانون کی حمایت حاصل کر لیں اور فوج اور پولیس کی مدد سے زیادہ منظم طریقہ پر لوٹ کا کام کر سکیں۔ اشتراک کی حل کا دوسرا فائدہ جو بتایا جاتا ہے وہ بین الاقوامی دنیا کا امن ہے۔ برٹرینڈ رسل نے کہا ہے: ’’سوشلسٹ انقلاب عالم گیر امن کی طرف جانے والی سڑک ہے۔‘‘ مگر اس حل کے معنی اس کے سوا اور کچھ نہیں ہیں کہ چند بستیاں جو الگ الگ ڈاکوؤں کا شکار ہو رہی ہوں ان سب کو ملا کر صرف ایک بڑے ڈاکو کی شکار گاہ بنا دیا جائے۔ امن عالم قائم کرنے کی تدبیر کا مطلب صرف یہ ہے کہ چند کامریڈوں کے ہاتھ میں ساری دنیا کے انسانوں کی قسمت دے دی جائے ۔ جس طرح اس وقت چند کامریڈ بعض ملکوں میں اس کے باشندوں کی قسمت کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ اگر سوشلزم انہی معنوں میں امن کی طرف جانے والی سڑک ہے تو ہٹلرزم اور بونا پارٹزم بھی امن کی طرف جانے والی سڑک تھی، کیوں کہ ان کا مقصد بھی یہی تھا کہ دنیا کی تمام قوموں پر ایک شخص یا ایک پارٹی کا اقتدار مسلط

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader