Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

کر دیا جائے۔ اگر اشترا کی سماج سے کش مکش ختم ہو جاتی ہے تو روس اور یوگوسلاویہ کے درمیان کیوں کشمکش ہوئی۔ مشرقی جرمنی کے مزدوروں نے ماسکو کے خلاف کیوں بغاوت کی، جس کے نتیجہ میں انھیں ٹینکوں کے نیچے پیس دیا گیا۔ پولینڈ اور ہنگری کے عوام کیوں’’ روسی برادری‘‘ میں شامل ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ’’ اشترا کی برادری‘‘ کا طلسم آہنی غلامی کے سوا اور کسی چیز کا نام نہیں ہے۔ جہاں یہ آہنی گرفت ڈھیلی ہوئی قومیں اس سے بھاگنے کے لیے بے قرار ہو جاتی ہیں۔ ۱۹۵۷ کے درمیان کمیونسٹ چین کے صدر ماؤ سے تنگ نے ایک تقریر میں کہا کہ’’ کمیونسٹ سوسائٹی میں بھی اختلافات ہو سکتے ہیں۔‘‘ یہ عالمی کمیونزم کی ناکامی کو سرکاری طور پر تسلیم کرنا ہے۔ ماؤ سے تنگ نے کمیونزم میں اختلاف کا امکان ظاہر کر کے ایک طرف خود اپنے ملک کی، روس سے جدا گانہ حیثیت کو نمایاں کیا ہے۔ دوسری طرف دبی زبان سے اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا ہے کہ کمیونزم کا سانپ نیشنلزم کے مینڈک کو ہضم نہیں کر سکا ہے۔ اس نے جتنے مینڈک کھائے تھے وہ سب اس کے پیٹ میں پھڑک رہے ہیں اور موقع پاتے ہی نکل بھاگنا چاہتے ہیں۔ اب کمیونسٹ دنیا کو جوڑے رکھنے کی یہی ایک صورت ہے کہ ان کے باہمی اختلاف کو تسلیم کیا جائے۔ یعنی کمیونزم کی عالمی برادری بنانے کے نظریہ کو قربان کر کے ان کے نیشنلزم کے لیے جگہ بنائی جائے۔ اجارہ داری کیوں؟: اجتماعی ملکیت کا نظام اجارہ داروں کے بغیر قائم نہیں کیا جا سکتا اور یہ اس کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نظام کے اندر خود کوئی ایسی کشش نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کی طرف مائل ہوں۔ بلکہ اس کی کامیابی کا انحصار تمام تر اس امر پر ہے کہ لوگ اس کی طرف مائل ہونے کے لیے مجبور کر دیئے گئے ہوں۔ آزاد معیشت میں کسی چیز کے بنانے کے بہت سے کارخانے ہوتے ہیں۔ وہاں کسی کارخانہ کے چلنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی حسن کارکردگی سے عوام کی نگاہ میں اپنے آپ کو مقبول بنا سکے۔ آزاد معیشت میں کسی کارخانے کی کامیابی کے معنی یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page